عورت، مرد
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۱۰
عورت، مرد
اسلام کے مطابق ، عورت اور مرد یکساں درجہ میں عزت اور تکریم کے مستحق ہیں۔ قرآن آل عمران (۱۹۵) میں فرمایا کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کے عمل کو ضائع نہیں کروں گا ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ۔ تم آپس میں ایک دوسرے کا جز ہو (You are members, one of another) حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مرد کی طہارت کا مسئلہ دریافت کیا گیا۔ آپ نے مسئلہ بیان کیا تو ایک عورت نے پوچھا : المراة ترى ذلك أعليها غسل ۔ یعنی عورت کے ساتھ بھی ایسا ہی پیش آئے تو کیا اس پر غسل ہے۔ آپ نے جواب دیا :
نعم ، إنما النساء شقائق الرجال ہاں ، عورتیں مردوں کا نصف ثانی ہیں۔
(سنن ابی داؤد، کتاب الطهارة ، صفحه ٦٠)
شقیق یا شقیقہ کے معنی ہیں دو برابر کے حصوں میں پھٹی ہوئی چیز کا آدھا حصہ۔ اسی لیے بھائی کو شقیق اور بہن کو شقیقہ کہتے ہیں۔ اس حدیث کا صحیح ترجمہ یہی ہے کہ عورتیں مردوں کا دوسرا نصف ہیں۔ اس کو دوسرے لفظوں میں اس طرح بھی کہہ سکتے ہیں کہ عورت مرد کی شریک حیات ہے، اور اسی طرح مرد عورت کا شریک حیات۔ دونوں یکساں طور پر ایک دوسرے کے ساتھی ہیں۔
کسی ایک فرد کے اندر تمام مطلوب صفات نہیں ہو سکتیں ، اس لیے اللہ تعالیٰ نے صفات انسانی کو دو ہستیوں میں بانٹ دیا ہے۔ عورت کے اندر نرمی والی صفات رکھ دیں تاکہ وہ مرد کے لیے سکون کا باعث ہو (الروم (۲۱) اور دوسری طرف مرد کے اندر قوامیت والی صفات رکھ دیں تاکہ عورت اس سے اعتماد حاصل کر سکے (النساء ۳۴)
صفات کے اس فرق کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اکثر حالات میں دونوں کا میدان کار الگ الگ ہو جاتا ہے۔ اس علحدگی کا مزید فائدہ یہ ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے لیے بہترین مشیر بن جاتے ہیں۔ اپنے دائرہ کار کے اعتبار سے ان میں کا ایک جن باتوں کے درمیان گھرا ہوا ہوتا ہے، دوسرا اس سے غیر متعلق رہ کر آزادانہ طور پر سوچنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ اس طرح دونوں کے لیے یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ جب ان میں کا ایک متاثرذہن کے تحت سوچے تو ان میں کا دوسرا غیر متاثر ذہن کے تحت اس کی رہنمائی کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues