Al-Risala · June 1996 · page 11

سوالات کا ترجمہ

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۱۱

سوال و جواب

ڈاکٹر عبد الحلیم عویس (قاہرہ) کی طرف سے راقم الحروف کو ایک سوال نامہ موصول ہوا، سوالات کا تعلق موجودہ زمانہ میں اسلام کی معنویت اور اسلامی نظام کے قیام کے امکانات وغیرہ سے تھا۔ اصلایہ سوال نامہ تقریباً ۳۰ سال پہلے ایک مسیحی تنظیم نے تیار کیا اور عرب دنیا کے ان ادیبوں اور دانشوروں سے ان کے جوابات طلب کیے جو اپنے لادینی اور اشتراکی رجحانات کے لیے مشہور تھے۔ یہ جوابات، پیشگی اندازہ کے مطابق، اسلام کے خلاف تھے۔ چنانچہ ان کو شائع کر کے پروپیگنڈہ کیا گیا کہ اسلام خود مسلم اہل فکر کی نظر میں ایک تاریخی یادگار یا ایک شخصی عقیدہ سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ اب انسانیت کو مزید کچھ دینے کے لیے اسلام کے پاس کچھ نہیں۔ وہ دورِ قدیم کی ایک چیز بن چکا ہے وغیرہ۔ سوال نامہ کے ساتھ ڈاکٹر عبد الحلیم عویس نے مذکورہ جوابات کا خلاصہ بھی ارسال کیا تھا اور اپنے کورنگ لیٹر میں یہ گزارش کی تھی کہ ان سوالات کا جواب اتنے مفصل اور مدلل انداز میں تحریر کروں جس سے بالواسطہ طور پر اس گمراہ کن پروپیگنڈہ کی مؤثر علمی تردید بھی ہو جائے۔ ذیل میں اصل سوالات اور ان کے جوابات کا اُردو ترجمہ نقل کیا جاتا ہے۔

الأسئلة:

۱۔ هل يحافظ الإسلام حتى يومنا هذا على دعوته الشاملة؟

۲۔ هل يمكن لدولة عصرية إعتماد الإسلام نظام حكم؟

۳۔ هل النظام الإسلامي للحكم مرحلة حتمية على الشعوب العربية أن تمر بها في معرض تطورها؟

۴۔ هل تأخذ ظاهرة اليقظة الدينية التي برزت في السنوات العشر الماضية منحى إيجابياً؟ ۵۔ من هو العدو الأول للإسلام حالياً؟

سوالات کا ترجمہ

۱۔ کیا اسلام آج بھی اپنی ہمہ گیرد عوت کو بدستور برقرار رکھے ہوئے ہے؟

۲۔ کیا موجودہ زمانہ میں کوئی ملک اسلام کو ایک نظام حکومت کے طور پر قبول کر سکتا ہے؟ ۳۔ کیا اسلامی نظام کوئی ایسا حتمی مرحلہ ہے جس سے عرب قوموں کو اپنے ارتقاء کے دوران گزرنا بالکل ناگزیر ہے؟

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page