جوابات
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۱۲
۴- کیا دینی بیداری کا یہ ظاہر ہ جو گزشتہ دس برسوں میں سامنے آیا ہے کوئی مثبت رخ اختیار کرے گا؟ ۵- اس وقت اسلام کا دشمن نمبر ایک کون ہے؟
جوابات
۱- میرا جواب یہ ہے کہ ہاں۔ اسلام کی ہمہ گیر معنویت اور حیات انسانی کے ساتھ اس کی مطابقت (relevance) آج بھی اسی طرح باقی ہے جس طرح وہ ہزار سال پہلے کے دور میں پائی جاتی تھی۔ حتی کہ وہ دور جس کو دورِ جدید کہا جاتا ہے، وہ خود اسلام کا پیدا کردہ ہے، پھر اسلام خود اپنی پیدا کردہ دنیا کے لیے غیر مطابق کیسے ہو سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ کی تمام اعلیٰ قدریں، مثلاً فکری آزادی، انسانی برابری، جمہوریت، جدید ٹکنالوجی، وغیرہ سب اسلام ہی کے انقلاب کے سیکولر نتائج ہیں۔ تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو، راقم الحروف کی کتاب : " اسلام دورِ جدید کا خالق " بعض امور جس میں اسلام کو عہدِ حاضر کے غیر مطابق بتایا گیا وہ خود بتانے والوں کی غلطی تھی۔ مثلاً عورت اور مرد کے ورک پلیس کو اسلام میں الگ الگ رکھا گیا ہے۔ بیسویں صدی کے نصف اول میں اس تصور کو رد کر دیا گیا۔ مگر اسی صدی کے نصف آخر میں حیاتیات اور نفسیات کے گہرے مطالعہ نے ثابت کیا کہ عورت اور مرد کے درمیان فیصلہ کن قسم کا تخلیقی فرق ہے۔ اور جب دونوں میں تخلیق کے اعتبار سے فرق ہو تو دونوں کے ورک پلیس کا جدا جدا ہونا ہی مطابق فطرت ہے نہ کہ اس کا ایک ہونا۔ چوں کہ یہ ایک فطری حقیقت ہے، اس لیے خود مغربی سوسائٹی میں، کامل آزادی کے باوجود، ورک پلیس کی یہ تفریق آج بھی پوری طرح باقی ہے (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: خاتون اسلام) ۲- اسلام کو بطور نظامِ حکومت اختیار کرنا بلا شبہ عین ممکن ہے۔ کلئی حقیقی نظریاتی رکاوٹ اس میں حائل نہیں۔ مثال کے طور پر موجودہ زمانہ میں جمہوریت کو معیاری حکومتی نظام سمجھا جاتا ہے۔ اس جمہوری نظام کو اسلام ہی نے تاریخ میں پہلی بار پیدا کیا۔ وہ اسلام میں شورائی نظام کے نام سے موجود ہے۔ ایسی حالت میں اسلام پر مبنی سیاسی نظام نا قابلِ عمل کیوں ہو گا۔
جہاں تک میں سمجھتا ہوں، صرف ایک چیز ہے جس کی بنا پر جدید مفکرینِ اسلام کے سیاسی نظام کو عہدِ حاضر کے لیے غیر صالح سمجھتے ہیں۔ وہ یہ کہ، ان کے نزدیک، اسلام کلیت پسندانہ نظام (totalitarianism) کا حامی ہے۔ اس بنا پر وہ کسی مشترک سماج (plural society) کے لیے پسندیدہ نہیں ہو سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues