Al-Risala · June 1996 · page 13

جوابات

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۱۳

مگر یہ صرف ایک غلط فہمی ہے جو کچھ نا اہل نمائندگان اسلام کی غلط تشریح سے پیدا ہوئی ہے۔ ان حضرات نے یہ کہنا شروع کیا کہ اسلام ایک دین کامل ہے جس کے اجزاء کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ان کے نزدیک اس نظام کو بیک وقت پوری صورت میں قائم ہونا چاہیے۔ اس کے حصے بخرے کرنا کسی حال میں ممکن نہیں۔

یہ ایک غلط تصور ہے۔ بطور عقیدہ بلاشبہ اسلام دین اور ریاست دونوں ہے۔ مگر عملی نفاذ کے اعتبار سے دونوں کا معاملہ الگ الگ ہے۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے حج اور زکوٰۃ بطور عقیدہ فرض ہے۔ مگر ان پر عمل اس وقت کیا جائے گا جب کہ اس کی شرائط بھی پائی جا رہی ہوں۔ اس معاملہ میں ہمیں مدنی دور سے رہنمائی ملتی ہے۔ مدنی دور اسلام کا حکومتی دور ہے، مگر اس حکومت کے خود دو دور ہیں۔ مدنی دور کے نصف اول میں وہاں مشترک آبادی تھی۔ گویا وہی چیز جس کو موجودہ زمانہ میں پلورل سوسائٹی کہا جاتا ہے۔ اور مدنی دور کے نصف آخر میں وہاں وحدانی معاشرہ وجود میں آگیا۔

ان دونوں دوروں میں دو الگ الگ انداز اختیار کیا گیا۔ مدینہ جب ایک پلورل سوسائٹی تھا تو وہاں اسلامی اقتدار کے باوجود غیر مسلموں کو ان کے اپنے رواج پر چھوڑ دیا گیا : كتب رسول الله صلى الله عليه وسلم كتاباً في (المدينة) بين المهاجرين والانصار وادع فيه اليهود وعاهدهم واقرهم على دينهم واموالهم (البداية والنهاية ۲۲۳/۳ کسی پلورل سوسائٹی کے لیے مدنی دور کے نصف اول میں مثال موجود ہے۔ یہ غیر مسلموں کے لیے تقریباً وہی چیز ہے جو موجودہ زمانہ میں سیکولر سسٹم میں اختیار کی جاتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ پلورل سوسائٹی میں بھی اسلام اتنا ہی قابل عمل ہے جتنا کہ سیکولر نظام کو قابل عمل سمجھا جاتا ہے۔ ۳- میں سمجھتا ہوں کہ عرب ترقی کے لیے ایسا ہونا ضروری ہے۔ تاریخی طور پر عربوں کا جو مزاج بنا ہے اس میں کوئی دوسرا نظام ان کے یہاں معقول طور پر کام نہیں کر سکتا۔ جمہوری طور پر ان کے درمیان صرف اسلام کا نظام ہی قابل قبول ہو سکتا ہے۔ دوسرا کوئی نظام جب بھی ان کے درمیان قائم ہوگا وہ آمریت کے زور پر قائم ہوگا۔ اور آمریت ہمیشہ ترقی کے عمل کو روکنے کی قیمت پر قائم ہوتی ہے۔ ترقی کے لیے آزادی ضروری ہے۔ اور آمریت کا نظام اس کا متحمل نہیں ہوتا کہ وہ لوگوں کو فکر و عمل کی آزادی عطا کرے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page