Al-Risala · June 1996 · page 19

کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۱۹

ماضی کے سرسید کے قصیدہ خواں ہیں لیکن حال میں اگر کوئی خدا کا بندہ سرسید کے فارمولے کو منطبق کرنے والی بات کرے تو دوبارہ اسی طرح وہ اس کے دشمن بن جاتے ہیں جس طرح ماضی میں وہ سرسید کے دشمن بنے ہوئے تھے ۔

اس دنیا کی سب سے بڑی حقیقت یہ ہے کہ وہ مقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے۔ اس مقابلہ اور مسابقت کے ماحول کی وجہ سے یہاں ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کے درمیان زندگی کی دوڑ جاری رہتی ہے۔ کبھی کوئی آگے بڑھ جاتا ہے اور کبھی کوئی پیچھے رہ جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال ہابیل اور قابیل کے زمانہ سے ہے اور وہ قیامت تک اسی طرح جاری رہے گی۔ یہ نظامِ خود خدا کا قائم کیا ہوا ہے، اور کسی بھی حال میں اس میں کوئی تبدیلی ہونے والی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ دنیا کبھی اور کسی کے لئے بھی ایسی نہیں ہو سکتی کہ اس کے لئے سب کچھ اچھا ہو اور کوئی نا خوشگوار چیز سرے سے یہاں موجود نہ ہو۔

تاہم اس دنیا کا ایک قانون یہ بھی ہے کہ بدلتے ہوئے حالات میں یہاں ایک نہ بدلنے والی صورتِ حال بھی ہمیشہ باقی رہے۔ وہ یہ کہ سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کے دوران جب ایک گروہ کو پیچھے دھکیلا جائے تو عین اسی وقت خود حالات کے تقاضے کے تحت اس کے لئے نئے امکانات بھی ظاہر ہو جائیں۔ چھینے والا جب اس سے ایک زینہ چھینے تو فطرت کا قانون اس کے لئے ایک اور راستہ کھول دے جس کے ذریعہ چل کر وہ دوبارہ آگے جا سکتا ہو۔

۱۹۴۷ سے پہلے جب ہندوستان میں انگریزوں کی حکومت تھی۔ تب بھی یہاں یہی صورتِ حال قائم تھی ، آج جب کہ یہاں "اکثریتی فرقہ "کا غلبہ ہے تب بھی یہی حالت یہاں موجود ہے۔ پچاس سال پہلے جب بر صغیر ہند ایک تھا تب بھی یہی حالت تھی ، آج جب کہ برصغیر کے تین ٹکڑے ہو گئے ہیں تب بھی تینوں جگہ یہی حال ہے۔ ہر جگہ کچھ نئے یا پرانے مسائل ہیں، اور اسی طرح ہر جگہ کچھ نئے یا پرانے مواقع بھی۔

آپ خواہ یورپ اور امریکہ جائیں یا عرب دیشوں اور مسلم دیشوں میں جائیں ، ہر جگہ آپ کو ظاہری فرق کے ساتھ عین یہی صورتِ حال ملے گی ۔ یہ فطرت کا قانون ہے،

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page