کہ غلامی میں بدل جاتا ہے قوموں کا ضمیر
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۲۰
اور فطرت کے قانون میں کبھی تبدیلی نہیں ہوتی۔ اس قانون میں زمانہ کے فرق کے کوئی فرق واقع ہوتا اور نہ جگہ کے فرق سے کوئی فرق۔
ایسی حالت میں کرنے کا کام کیا ہے۔ کرنے کا کام یہ ہے کہ حالات کے خلاف چیخ پکار کرنے کے بجائے حالات کا سنجیدہ مطالعہ کیا جائے، حالات کے خلاف ردعمل ظاہر کرنے کے بجائے حالات کے ساتھ ہم آہنگی کا طریقہ اختیار کیا جائے۔ سرسید کا مذکورہ بالا فارمولا دراصل اسی ہم آہنگی کے طریقہ کا دوسرا نام ہے۔
یہ دنیا جب مقابلہ اور مسابقت کی دنیا ہے تو یقینی طور پر وہ کبھی مسائل سے خالی بھی نہیں ہو سکتی۔ چنانچہ جس طرح دوسرے تمام زمانوں میں مسائل موجود تھے، اسی طرح آج بھی یہاں مسائل موجود ہیں۔ یہ مسائل نظام فطرت کی بنا پر ہیں نہ کسی کے ظلم اور تعصب کی بنا پر۔ تاہم خود فطرت ہی کا بنایا ہوا نظام یہ بھی ہے کہ جب بھی دنیا میں مسائل ہوں تو عین اسی وقت وہاں مواقع بھی موجود ہوں۔ ایسی حالت میں عقل و حکمت کا تقاضا صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ مسائل کو نظر انداز کیا جائے اور مواقع کو دریافت کرکے انھیں استعمال کیا جائے : Ignore the problems, avail the opportunities. اس دنیا میں کامیابی کا یہی واحد فارمولا ہے۔ جب بھی کسی شخص یا گروہ نے اس دنیا میں کامیابی حاصل کی ہے تو اسی فارمولے پر چل کر کامیابی حاصل کی ہے۔ آئندہ بھی جو لوگ اس دنیا میں کوئی کامیابی حاصل کریں گے تو وہ بھی اسی فارمولے پر چل کر حاصل کریں گے۔ مسائل سے لڑنے والے لوگ اس دنیا میں ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں۔ اور مواقع کو استعمال کرنے والے لوگ ہمیشہ کامیاب۔ اس کے سوا اس دنیا میں کامیابی کی کوئی بھی دوسری تدبیر نہیں نہ ہندوستان میں اور نہ کسی دوسرے ملک میں۔ نہ آج اور نہ آج سے سیکڑوں سال بعد۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues