Al-Risala · June 1996 · page 21

ایک دن

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۲۱

ایک دن

۱۸ فروری ۱۹۹۶ کو رمضان ۱۴۱۶ھ کی ۲۸ تاریخ تھی۔ راقم الحروف کی دعوت پر آج دہلی کے تین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو افطار میں ہمارے ساتھ شریک ہوئے۔ تینوں صاحبان تین مختلف میدان سے تعلق رکھتے تھے۔ ایک صاحب درجہ اول کے صحافی ہیں۔ دوسرے صاحب کامیاب بزنس مین ہیں۔ اور تیسرے صاحب ایک سیاسی پارٹی کے لیڈر ہیں۔ تینوں دہلی کے مختلف حصوں میں رہتے ہیں۔ ان کے نام یہ ہیں:

مسٹر ارن شوری (Tel. 6886644)

مسٹر پرمود کمار بترا (Tel. 4697971)

مسٹر ہیپش چندر شرما (Tel: 2295212)

ہم سب لوگ ایک بڑے کمرے میں بیٹھ گئے جس کے ایک طرف سرسبز پارک دکھائی دیتا تھا اور دوسری طرف الماریوں میں رکھی ہوئی عربی اور انگریزی کتابیں نظر آرہی تھیں۔ آج شام کو سوا چھ بجے افطار کا وقت تھا۔ سائرن کی آواز آئی تو کھجور اور پانی سے افطار کیا گیا۔ وہ لوگ بھی ہمارے ساتھ اس میں شریک ہوئے۔

ایک صاحب نے کھجور کے بارے میں کہا کہ عرب میں چوں کہ کھجور ہی ملتی تھی اس لئے شاید روزہ افطار کرنے کے لئے کھجور مقرر کی گئی۔ میں نے کہا کہ یہ بات نہیں۔ کھجور کوئی روزہ افطار کا لازمی جزو نہیں ہے۔ وہ ایک رواج ہے نہ کہ مقدس شریعت۔ دوسری بات یہ ہے کہ کھجور کوئی کمتر درجہ کی چیز بھی نہیں۔ کھجور میں تمام اہم غذائی اجزاء ــــ شکر ، پروٹین ، فیٹ ، منرل وغیرہ موجود ہیں۔ اور وہ ایک مکمل خوراک ہے۔

سادہ افطار کے بعد اسی کمرہ میں ہم نے جماعت کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھی۔ وہ لوگ قریب بیٹھے ہوئے نہایت خاموشی کے ساتھ ہماری نماز کو دیکھتے رہے۔ فراغت کے بعد جب میں دوبارہ دستر خوان پر آیا تو مسٹر ارن شوری نے پہلا سوال کیا کہ یہ نماز کیا ہے، اس کے بارے میں ہمیں بتائیے۔ ان کے سوال پر بقیہ تینوں صاحبان بھی

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page