ایک دن
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۲۲
متوجہ ہوگئے ۔ ایسا محسوس ہوا کہ تینوں صاحبان نہایت سنجیدگی کے ساتھ نماز کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں ۔
میں نے کہا کہ نماز خدا کی عبادت ہے ۔ اس کی ظاہری صورت تو ابھی آپ نے دیکھ لی ۔ اب میں آپ کو اس کی اسپرٹ کے بارے میں کچھ بتاتا ہوں ۔ جس طرح ہر چیز کا ایک ظاہر ہوتا ہے ، اور ایک اس کی اندرونی حقیقت ہوتی ہے ۔ اسی طرح نماز کا بھی ایک ظاہر ہے ، اور اس کا دوسرا پہلو اس کی اندرونی حقیقت ہے ۔
جب ہم نماز شروع کرتے ہیں تو ہم کہتے ہیں : اللہ اکبر ، یعنی اللہ سب سے بڑا ہے ۔ یہ اپنے آپ کو اس بات کا احساس دلانا ہے کہ خدا بڑا ہے ، میں بڑا نہیں ہوں ۔ اس طرح نماز کا پہلا سبق تواضع (modesty) ہے ۔
اس کے بعد ہم سورۃ الفاتحہ پڑھتے ہیں جو ان الفاظ سے شروع ہوتی ہے : الحمد للہ رب العالمین (ساری حمد اللہ کے لئے ہے جو سارے عالم کا رب ہے) یہ شکر (thanksgiving) کا کلمہ ہے ۔ اس طرح نمازی اس احساس کو اپنے ذہن میں تازہ کرتا ہے کہ خدا ہی سب کچھ دینے والا ہے ، اس لئے ساری شکر گزاری بھی اسی کے لئے ہونا چاہئے ۔ پھر نماز میں ہم ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوتے ہیں ۔ رکوع کی صورت میں آدھا جھکتے ہیں ۔ پھر سجدہ کی صورت میں پورا جھک جاتے ہیں ۔ ان حالتوں میں بار بار ایسے کلمات کہے جاتے ہیں جن میں اللہ کے سبوح اور قدوس ہونے کا اقرار ہوتا ہے ۔ یہ نماز کا وہ پہلو ہے جس کو اطاعت (submission) کہا جاسکتا ہے ۔
میں نے کہا کہ یہ اطاعت کا معاملہ بے حد اہم معاملہ ہے ۔ کیوں کہ اسلامی عقیدہ کے مطابق ، اللہ تعالی کو ساری کائنات اور ساری مخلوقات سے یہی مطلوب ہے ۔ چنانچہ فروری ۱۹۸۴ میں جب ہم نے انگریزی الرسالہ جاری کیا تو اس کے پہلے شمارہ کے ٹائٹل پر یہ جملہ تھا کہ انسان اور کائنات دونوں کا مذہب ایک ہے ، اور وہ اطاعت ہے : Submission is the only religion for both: man and the universe. پھر نماز کے آخر میں دائیں اور بائیں سلام پھیر کر کہا جاتا ہے : السلام علیکم ورحمتہ اللہ
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues