Al-Risala · June 1996 · page 23

Modesty, thanksgiving, submission, peace,

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۲۳

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ یعنی اے لوگو، تمہارے اوپر سلامتی اور اللہ کا رحمت ہو۔ ہندستان میں ہم اتر دکھن رخ کرکے ایسا کہتے ہیں۔ دوسرے ملکوں میں دوسری سمتوں کی طرف منھ پھیر کر یہ ہی کلمات کہے جاتے ہیں۔ اس طرح روزانہ ہر نماز کے بعد مسلمان زمین کے چاروں طرف بسنے والے تمام لوگوں کی طرف اپنا رخ کرکے یہ دعا کرتے ہیں کہ تمہارے اوپر خدا کی رحمت اور سلامتی ہو۔ یہ نماز کا وہ پہلو ہے جس کو آپ امن (peace) کہہ سکتے ہیں۔ نماز کی اس تشریح کو سب لوگ بہت غور کے ساتھ سنتے رہے۔ آخر میں مسٹر آرن شوری نے کہا کہ اب میں نماز کو سمجھنے کے لئے چار لفظ یاد رکھوں گا۔ _ ماڈسٹی، تھینکس گیونگ، سبمشن اور پیس :

Modesty, thanksgiving, submission, peace,

اس کے بعد ڈاکٹر مہیش چندر شرما نے کہا کہ اب روزہ کے بارہ میں کچھ بتائیے۔ میں نے کہا کہ روزہ کے لئے عربی لفظ صوم ہے۔ صوم کے لفظی معنی ہیں رک جانا (abstinence) روزہ کی بھی ایک ظاہری صورت ہے۔ اور دوسری چیز اس کی حقیقت ہے۔ روزہ کی ظاہری صورت تو آپ کو معلوم ہے۔ اس کی اسپرٹ یا اس کی حقیقت پر ہیز گاری ہے۔ یہی مطلب ان لفظوں کا ہے جس کو ابھی ہم نے افطار کرتے ہوئے اپنی زبان سے ادا کیا۔ وہ الفاظ ہیں : اللھم لک صمت وعلى رزقك أفطرت۔ یعنی اے اللہ، میں نے تیرے کہنے سے روزہ رکھا، اور تیرے کہنے سے میں نے افطار کیا۔

انسان خدا کا بندہ ہے۔ اس لحاظ سے اس کو چاہئے کہ وہ خدا کی اطاعت گزار بنے مگر خدا جبری اطاعت کے بجائے آزادانہ اطاعت چاہتا ہے جو زیادہ اونچی صفت ہے۔ چنانچہ خدا نے ہم کو زمین پر پوری آزادی دیدی ہے۔ اب خدا چاہتا ہے کہ ہم کسی جبر کے بغیر خود اپنے ارادہ اور فیصلہ سے خدا کے حکموں کے پابند بن جائیں۔

یہ آزادی گویا انسان کی اخلاقی ترقی کا ایک کورس ہے۔ وہ اس لئے ہے کہ انسان کے اندر خود انضباطی (self-discipline) کی صفت پیدا ہو۔ ہر انسان ایک با اصول انسان بن جائے۔ وہ فطرت کے مقرر اصول کے مطابق، خود اپنے ارادہ سے برائی کو چھوڑ دے،

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page