ایک انسانی کردار
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۲۹
کنارے آباد تھا۔ اس زمانہ میں ہم لکڑی کی بنی ہوئی سادہ کشتی پر بیٹھا کرتے تھے جو لمبے بانس کے ذریعہ چلائی جاتی تھی۔ اس وقت دور دور تک بھی میرے تصور میں نہ تھا کہ موجودہ ڈریم بوٹ جیسی کشتیوں کا وجود بھی کہیں ہوگا۔ ایسا ہی کچھ معاملہ آج کی دنیا کے مقابلہ میں کل کی دنیا کا بھی ہے۔ یہ کافی بڑا جہاز تھا۔ میں نے ایک ایئر ہوسٹس سے پوچھا کہ اس جہاز میں کتنی سیٹ ہے۔ اس نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ۴۵۰ سیٹیں ہوں گی۔ مگر مجھے اطمینان نہیں ہوا۔ میں نے دوبارہ فلائٹ انجینئر سے پوچھا اس نے کہا کہ اس میں کل ۴۲۰ سیٹیں ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگ باتوں کو کتنا کم جانتے ہیں۔ پورا جہاز بھرا ہوا نظر آیا۔ مسافروں میں زیادہ تر بنگلہ دیشی اور ہندوستانی تھے۔ اتنے زیادہ ہندوستانی کس لئے لندن جا رہے ہیں۔ جواب یہ ہے کہ مزدوری کرنے کے لئے۔ ترقی یافتہ ملکوں میں غیر ترقی یافتہ ملکوں کے جو لوگ ہیں، خواہ وہ کوئی عام آدمی ہو یا ڈاکٹر اور پروفیسر، سب ان ملکوں کے مزدور ہیں۔ وہ ان ملکوں کی اقتصادی مشین کو چلا رہے ہیں، صرف اس لئے کہ اپنے ملکوں کے مقابلہ میں یہاں ان کو کچھ زیادہ اجرت مل جاتی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے انگریزوں کی محکومی سے نجات حاصل کرنے کے لئے بے حساب قربانیاں دیں، مگر یہ عظیم جدوجہد جب کامیابی کے مرحلہ کو پہنچی تو جو فرق ہوا وہ صرف یہ تھا کہ جو لوگ پہلے ہم کو سیاسی محکوم بنائے ہوئے تھے، اب انھوں نے ہم کو اپنا اقتصادی مزدور بنالیا۔
یہ دہلی سے لندن کے لئے نان اسٹاپ فلائٹ تھی۔ جہاز بلندی پر پرواز کرتا ہوا تیزی سے منزل کی طرف جارہا ہے۔ پائلٹ کچھ کچھ دیر کے بعد اعلان کرتا ہے__ اب ہم پاکستان کے اوپر سے گزر رہے ہیں، اب ہم ایران کے اوپر سے گزر رہے ہیں، اب ہم ترکی کے اوپر سے گزر رہے ہیں، اب ہم بلغاریہ کے اوپر سے گزر رہے ہیں، اب ہم سوئٹزرلینڈ کے اوپر سے گزررہے ہیں۔ اس طرح بلند پروازی کے ساتھ سفر مسلسل جاری رہا۔
میں نے سوچا کہ سفر ہزاروں سال سے انسان کا ایک مسئلہ تھا۔ پیدل، گھوڑا اور کشتی جیسی چیزوں سے انسان سفر کر رہا تھا۔ یہاں تک کہ اہل مغرب نے ہوائی سفر کا طریقہ دریافت کیا۔ یہ گویا سفر کے مسئلہ کا ایک برتر حل (superior solution) تھا۔ اس دنیا میں وہی لوگ اعلیٰ مقام حاصل کرتے ہیں جو کسی مسئلہ کا برتر حل دریافت کر سکیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کی پسماندگی کا سبب کسی قوم یا قوموں کا ظلم نہیں ہے، بلکہ خود مسلمانوں کی یہ کوتاہی ہے کہ وہ انسانی مسائل کا کوئی برتر حل دنیا کے سامنے پیش نہ کر سکے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues