Al-Risala · June 1996 · page 40

۳۵ الرسول جون ۱۹۹۶

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۴۰

ایک اور سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ یہاں کے نوجوان طبقہ کو میرا پیغام یہ ہے کہ وہ اپنی سوچ پر نظرثانی کریں۔ انھوں نے مسرت (pleasure) کو مطلق (absolute) چیز سمجھ لیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ مسرت غیر محدود طور پر لطف اندوز ہوں۔ مگر ایسا اس دنیا میں ممکن نہیں۔ انسان خود اپنی محدودیتوں کی وجہ سے لامحدود طور پر چیزوں سے لطف اندوز نہیں ہو سکتا۔ اس لئے آپ لوگ حقیقت پسند بنئے۔ زندگی کا سچ حقیقت پسند بننے میں ہے۔ لذت پسندی کا موجودہ رجحان آپ کو آخر کار فرسٹریشن کے سوا کہیں اور پہنچانے والا نہیں۔

دوپہر کا کھانا اجتماع گاہ میں تھا۔ ہندوستانی انداز میں تھال کے اندر رکھ کر کھایا گیا۔ کھانے کے بعد جب میں بذریعہ کار ہوٹل کی طرف واپس آرہا تھا تو راستہ میں بھورے سے رنگ کی ایک خوبصورت عمارت دکھائی دی۔ اس میں نہایت خوبصورت حرفوں میں لکھا ہوا تھا : بر ہماکماری اسپیر یچول یونیورسٹی۔

ایک صاحب نے بتایا کہ منو بھائی نے ۱۹۷۲ میں جب جیل کے اندر گیتا اور دوسری مذہبی کتابوں کا مطالعہ کیا تو اس کے بعد انھوں نے ہنو مان جی کو پا لیا۔ وہ تاجر کے ساتھ سادھو بن گئے۔ گھر گھر میں پوجا کا سنکلپ لیا ہے انھوں نے ۔ اسی کا ایک اظہار یہ فیسٹول ہے۔ یہ سن کر میں سوچنے لگا کہ شاید ایک غیر حقیقی چیز پر بھی آدمی کو اتنا ہی یقین ہو سکتا ہے جتنا کہ ایک حقیقی چیز پر۔ پچھلے دو سال کے اندر مجھے ہندو حلقوں میں جانے کا بہت زیادہ موقع ملا ہے۔ میں نے بہت زیادہ ان کو سنا ہے اور بہت گہرائی تک ان کو دیکھا ہے۔ میں نے دیکھا ہے کہ ہندو سنتوں اور گروؤں کے اجتماعات میں لاکھوں لوگ دیوانہ وار آتے ہیں اور نہایت ذوق وشوق کے ساتھ ان کی باتیں سنتے ہیں۔ مگر میرا آخری تاثر یہ ہے کہ صرف اسلام ہی ایک ایسا مذہب ہے جو سائنٹفک اصول پر قائم ہے۔ بقیہ تمام مذاہب، تحریف کے نتیجہ میں، غیر معقول صورت اختیار کر چکے ہیں۔ اب وہ یا تو طلسماتی افسانے ہیں یا روحانی شاعری۔ کسی بھی دوسرے مذہب کی کوئی سائنٹفک بنیاد نہیں. دوسرے مذاہب پر لوگ اس لئے قائم ہیں کہ وہ ان کو ایک روایتی ضمیمہ کے طور پر لئے ہوئے ہیں۔ اگر وہ اپنے مذہب پر اپنی عقل کو استعمال کریں تو شاید کوئی بھی ان مذاہب کو اختیار نہ کر سکے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page