Al-Risala · June 1996 · page 34

۳۵ الرسول جون ۱۹۹۶

الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۳۴

اپنے کو ہلاک کرلوں ۔ باپ نے کہا کہ میری نیند اڑ گئی ہے۔ آجکل میں روزانہ گولی کھا کر سوتا ہوں ۔ وغیرہ۔

یو کے کی بظاہرخوشنمازندگی کے پیچھے جو تلخ حقائق ہیں ، اس کو اگر لوگ جان لیں تو دہلی کے برٹش ہائی کمیشن میں ویزا کے لئے لائن لگانے والوں کی تعداد بہت کم ہو جائے۔ اگلے دن مذکورہ نوجوان مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ ان سے شادی کے مسئلہ پر بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ لوگ جس چیز کو لو میرج کہتے ہیں وہ حقیقتہ لسٹ میرج ہوتی ہے۔ اگر یہ بات نہ ہو تو کیوں ایسا ہے کہ لو میرج زیادہ ٹوٹ جاتی ہے اور لَوَرس کے درمیان شکایت کے ساتھ آخر کار جدائی ہو جاتی ہے۔ حقیقی محبت کبھی اس طرح ٹوٹ نہیں سکتی۔ میں نے کہا کہ چند سال کے تجربہ کے بعد آپ مجھے خط لکھئے گا کہ آپ کی بات صحیح تھی یا میری بات۔ فیسٹیول کے منتظمین نے ایک پروگرام مختلف مذاہب کے تعارف کا رکھا تھا۔ ۳۱ اگست کی شام کو سکھ ازم کے تعارف کا دن تھا۔ ہوٹل کے لان میں اس کا انتظام کیا گیا تھا۔ اکال تخت امرتسر کے چیف جتھیدار پر وفیسر منجیت سنگھ نے یہ ذمہ داری ادا کی۔ پہلے انھوں نے ہارمونیم پر گرو گرنتھ صاحب کا ایک حصہ پڑھا۔ ہارمونیم وہ خود بجا رہے تھے۔ اس کے بعد انھوں نے سکھ دھرم کا تعارف کرایا۔ انھوں نے بتایا کہ سکھ دھرم میں گرنتھ (گرو گرنتھ صاحب) کو زندہ گرو مانا گیا ہے۔ امرتسر کے بڑے گردوارہ میں اس کو پالکی پر ادھر سے ادھر منتقل کیا جاتا ہے۔ گرو گرنتھ صاحب میں ۳۶ مہاپرشوں کا کلام ہے ۔ ہندو اور مسلمان ، یہاں تک کہ شودر کا کلام بھی۔ اس میں سد نا قصائی کا کلام بھی موجود ہے جو مسلمان تھے اور قصائی کا کام کرتے تھے۔ پھر ان کو گیان پر آپت ہوا اور اپنا پیشہ چھوڑ کر سنت بن گئے۔

گولڈن ٹیمپل (سورن مندر) کے بارہ میں انھوں نے بتایا کہ یہ انگریزوں کا دیا ہوا نام ہے۔ اس کا اصل نام ہری مندر صاحب ہے۔ انھوں نے کہا کہ سکھ ازم میں میری اور پیری دونوں ایک ہیں۔ یعنی سیاست اور مذہب دونوں کو ہم ایک سمجھتے ہیں۔ ہمارے یہاں جو مذہب ہی پیشوا ہوتا ہے وہی سیاسی سردار بھی مانا جاتا ہے۔

ان کی تقریر سننے کے بعد ایک ہندو نے مجھ سے بات کرتے ہوئے کہا: جب گولڈن ٹیمپل کا

‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues

Printed page