۳۵ الرسول جون ۱۹۹۶
الرسالہ، جون ۱۹۹۶، صفحہ ۴۴
نام بھی مندر ہے تو پھر ہند و سکھ میں جھگڑا کیوں ۔
۳۱ اگست کو دن کے کھانے کے وقت میری کرسی سے ملی ہوئی کرسی سوامی چید آنند کی تھی ۔ اس کے بعد کی کرسی پر ایک صاحب آکر بیٹھ گئے اور سوامی جی سے باتیں کرنے لگے۔ وہ اس قدر سادہ اور بظاہر اہم تھے کہ کوئی نا واقف آدمی ان کو دیکھ کر یہ سمجھ نہیں سکتا کہ یہ کوئی مالدار آدمی ہوں گے۔ سوامی جی نے بعد کو بتایا کہ یہ مسٹر سری چند ہند و جا تھے جو پچاس ہندوستانی بر لا کے برابر ہیں۔ اس قسم کے ہندو تاجر مغربی ملکوں میں بڑی تعداد میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ بہت بڑے بڑے بزنس کرتے ہیں اور ہندو اداروں اور تحریکوں کو نہایت فراخ دلی کے ساتھ مالی تعاون دے رہے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں مسلم ادارے عرب حکمرانوں کے تعاون سے چل رہے ہیں اور ہندو ادارے ہندو تاجروں کے تعاون سے ۔ یورپ اور امریکہ میں بہت بڑے ہندو ادارے ہیں جن کا بجٹ کروڑوں ڈالر سالانہ ہوتا ہے۔ یہ سب ہندو تاجروں کے تعاون سے پورا ہوتا ہے۔ آجکل انسائیکلو پیڈیا آف ہند و ازم اٹھارہ جلدوں میں چھپ رہی ہے۔ اس میں میکمیلن (ناشر) نے ۳۳ کروڑ روپیہ لگایا ہے اور ہندو تاجروں نے ۲۰ کروڑ روپیہ فراہم کیا ہے۔
موجودہ زمانہ میں تقریباً تمام اسلامی ادارے پیٹرو ڈالر کی خدا داد دولت کے ذریعہ چل رہے ہیں نہ کہ خود اپنی کمائی ہوئی دولت سے۔ مگر کم از کم میں نے کسی بھی اسلامی ادارے کے لوگوں کو اس پر خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے نہیں سنا۔ تمام لوگ اس کو خود اپنے فضل وکمال کے خانہ میں ڈالے ہوئے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں جو چیز سب سے زیادہ نایاب ہو گئی ہے وہ یہی شکر ہے۔ ایک کٹر ہندو بھائی سے ملاقات ہوئی۔ وہ ہندوستان سے تعلق رکھتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کا یہ ماننا ہے کہ صرف اسلام ہی سچا مذہب ہے۔ دوسرے مذہبوں کو وہ لوگ سچا مذہب نہیں مانتے۔ ایسی حالت میں انڈیا میں ہندو مسلم ایکتا کیسے آسکتی ہے۔ آپ مسلمانوں کو سمجھائیے کہ وہ ہندو مذہب کو بھی اسلام ہی کی طرح سچا مانیں۔ ورنہ ہندوستان میں رہنا ان کے لئے مشکل ہو جائے گا۔ میں نے کہا کہ عیسائی لوگ بھی صرف اپنے مذہب کو سچا مذہب سمجھتے ہیں۔ پھر آپ لوگ یہاں کس طرح ان کے ساتھ رہ رہے ہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 1996 All issues