Al-Risala · July 1996 · page 6

ترک تعلق

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۶

ترک تعلق

قطع تعلق اور ترک کلام کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں اس سلسلہ میں بہت سی روایتیں آئی ہیں۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم دونوں میں یہ روایت ہے کہ : لا يحل للرجل أن يهجر اخاه فوق ثلاث کسی آدمی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے ليال، يلتقيان فيعرض هذا ويعرض تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے۔ دونوں ملیں هذا۔ وخير هما الذى يبدأ تو ایک ادھر منہ پھیر لے اور دوسرا ادھر منہ پھیر لے۔ بالسلام۔ اور دونوں میں بہتر وہ ہے جو سلام کرنے میں پہل کرے۔

ایک روایت میں ہے کہ ہر دو شنبہ اور جمعرات کو جنت کے دروازے کھولے جاتے ہیں۔ پھر ہر اس بندہ کو بخش دیا جاتا ہے جس نے اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرایا ہو سوا اس آدمی کے جس کی اپنے بھائی کے ساتھ عداوت ہو۔ کہا جاتا ہے کہ ان دونوں کے بارہ میں انتظار کرو، یہاں تک کہ وہ آپس میں اپنے تعلق کو درست کر لیں (مسلم)

ایک روایت کے مطابق ایک صحابی کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے بھائی سے ایک، سال تک تعلق توڑے رہے تو وہ اس کا خون بہانے کے برابر ہے (ابو داؤد) سنن ابو داؤد میں ایک اور روایت اس طرح ہے :

لا يحل لمسلم ان يهجر اخاه کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی سے فوق ثلاث۔ فمن هجر فوق تین دن سے زیادہ ترک تعلق کرے۔ پس جو شخص تین ثلاث فمات دخل النار۔ دن سے زیادہ ترک تعلق کرے اور اسی حال میں مر جائے تو وہ آگ میں داخل ہوگا۔

(سنن ابی داؤد ۴ / ۲۸۱)

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک آدمی کسی سے غصہ ہو کر اس سے تعلق توڑ لیتا ہے اور اس سے بولنا بند کر دیتا ہے۔ یہ برائی مردوں میں بھی ہے اور عورتوں میں بھی۔ مگر یہ سخت گناہ ہے۔ وہ اتنا زیادہ سنگین ہے کہ آدمی اپنی اصلاح نہ کرے اور اسی حالت میں اس پر موت آجائے تو نماز روزه کے باوجود سخت اندیشہ ہے کہ وہ خدا کی پکڑ میں آجائے گا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues

Printed page