درود و سلام
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۷
درود و سلام
قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے رسول پر صلاۃ (درود) بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو، تم بھی اس پر درود اور سلام بھیجو (الاحزاب ۵۶) علماء نے لکھا ہے کہ اللہ کی صلاۃ (درود) رسول پر رحمت بھیجنا ہے۔ فرشتوں کا درود استغفار کرنا ہے اور اہل ایمان کا درود دعا کرنا ہے۔ نبی پر درود و سلام کے بارے میں تفسیروں اور حدیث کی شرحوں میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اس پر بہت سی مستقل کتابیں بھی موجود ہیں۔ مثلاً شیخ شمس الدین سخاوی کی کتاب القول البدیع فی الصلاة علی الحبیب الشفیع، وغیرہ۔
حدیث (النسائی، الترمذی) میں ہے کہ وہ شخص بخیل ہے جس کے سامنے میرا ذکر کیا جائے اور وہ مجھ پر درود نہ پڑھے (البخیل من ذکرتُ عنده فلم يُصلّ علیٰ) حقیقت یہ ہے کہ پیغمبر آخر الزماں صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا آپ کے احسان عظیم کا شکر ادا کرنا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخ کا عظیم ترین کارنامہ انجام دیا۔ آپ نے انسانی تاریخ کو نزاعی نبوت کے دور سے نکال کر تسلیم شدہ نبوت کے دور میں پہنچایا۔ دین توحید کو تحریف کے دور سے نکال کر محفوظ دین کے دور میں پہنچایا۔ انسانی تمدن کو توہّمات کے دور سے نکال کر سائنسی دور میں پہنچایا۔ خدا کے کلمہ کو مغلوبیت کے دور سے نکال کر غلبہ کے دور میں پہنچایا۔ شریعت الہی کو غیر کامل دور سے نکال کر کامل دور میں پہنچایا۔ دین حق کو غیر تاریخی دور سے نکال کر تاریخی دور میں پہنچایا، وغیرہ۔
یہ تاریخ کا سب سے بڑا اور سب سے مشکل مشن تھا۔ اس مشکل ترین مشن میں آپ کے ساتھ آپ کے اصحاب اور آپ کے اہل خاندان نے ہر وہ قربانی پیش کی جو اس کو تکمیل تک پہنچانے کے لیے درکار تھی۔ اس لیے حکم دیا گیا کہ قیامت تک تمام لوگ رسول پر اور اس مقدس جماعت پر درود و سلام بھیج کر اس کے احسان عظیم کا اعتراف کریں۔
جب کوئی شخص کسی کے اوپر احسان کرے تو انسانی فطرت کا تقاضا ہے کہ اس پر شکر کا اظہار کیا جائے ۔ درود و سلام اسی قسم کے ایک عظیم ترین احسان کا دعا کی صورت میں اعتراف ہے ۔ اللهم صل علی سیدنا محمد وعلى وآله وصحبه وسلم -
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues