Al-Risala · July 1996 · page 8

خود شکن بنئے

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۸

خود شکن بنئے

سبکتگین ایک ترکی غلام تھا، سامانی (ایرانی) حکمرا نوں نے اس کو غز نہ (افغانستان) کا گور نر بننایا۔ بعد کو حالات سے فائدہ اٹھا کر اس علاقہ میں اس نے اپنی آزاد حکومت قائم کر لی۔ وہ ۹۷۷ء سے لے کر ۹۹۷ء تک اس غزنوی سلطنت کا حکمراں رہا۔

سبکتگین کے بعد اس کا لڑ کا اس سلطنت کا حکمراں بنا جو محمود غزنوی (۱۰۳۰-۹۷۱) کے نام سے مشہور ہے۔ اس نے ۱۰۲۴ء میں پہلی بار سومناتھ (گجرات) پر حملہ کیا۔ اس نے سنا تھا کہ یہاں شیو کا مندر ہے اور اس کے اندر بڑی مقدار میں سونا موجود ہے ۔ وہ چاہتا تھا کہ مندر کو توڑ کر اس کا سونا حاصل کرے۔ اس سے پہلے ۱۰۰۱ء میں محمود غزنوی نے پشاور کے قریب راجہ جیپال کا مقابلہ کیا تھا۔ اس وقت محمود غزنوی کے پاس صرف پندرہ ہزار فوجی تھے۔ اس کے مقابلہ میں راجہ جیپال کے فوجیوں کی تعداد بہت زیادہ تھی، حتیٰ کہ اس کے پاس ۳۰۰ ہاتھی بھی تھے۔ مگر محمود غزنوی نے اس مقابلہ میں زبردست کامیابی حاصل کی ۔ اس کی وجہ سے لوگوں کے اوپر اس کا ایک فوجی رعب قائم ہو گیا۔ چنانچہ محمود غزنوی جب اپنے لشکر کو لے کر سومناتھ پہنچا تو یہاں کے پنڈتوں نے اس سے مل کر یہ پیش کش کی کہ آپ ہمارے مندر کو نہ توڑیں۔ اس کے بدلے میں ہم آپ کو بڑی مقدار میں سونا، چاندی پیش کر دیں گے۔ محمود غزنوی نے اس کے جواب میں کہا: من بت شکم نہ بت فروش۔ یعنی میں بت کو توڑنے والا ہوں نہ کہ بت کو بیچنے والا۔

محمود غزنوی نے اپنے آپ کو اسلام کے نمائندہ کی حیثیت سے پیش کیا۔ مگر اس کے اس فعل کا کوئی تعلق اسلام سے نہ تھا۔ بت شکنی اسلام کا کوئی اصول نہیں۔ اسلام اپنے ماننے والوں کو خود شکن بناتا ہے نہ کہ بت شکن۔ اور کسی مندر کا یا کسی بھی ادارہ کا خزانہ لوٹنا تو اس سے بھی زیادہ برا ہے، کیوں کہ وہ سراسر حرام ہے۔

خود شکن بنا یہ ہے کہ آدمی خواہش کے پیچھے نہ چلے بلکہ اصول حق کا اتباع کرے۔ وہ کبر کی نفسیات سے اوپر اٹھے اور تواضع کا طریقہ اختیار کرے۔ وہ ذاتی مفاد کے بجائے انصاف کو اہمیت دے۔ وہ خود پرست کے بجائے خدا پرست بن جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues

Printed page