Al-Risala · July 1996 · page 9

شریعت کا حکم

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۹

شریعت کا حکم

اسلامی شریعت کا ایک متفقہ مسئلہ ہے: المشقة تجلب التيسير (مشقت آسانی کا موجب ہوتی ہے)۔ یعنی جب کسی شرعی حکم پر عمل کرنا مشقت کا باعث ہو تو ایسے حالات میں خود شرعی حکم کو نرم کر دیا جاتا ہے ، نہ یہ کہ حالات کو نظر انداز کرتے ہوئے ہر قیمت پر شریعت کی تعمیل پر اصرار کیا جائے۔

مثال کے طور پر ایک مسلمان پر حج کی عبادت فرض ہو چکی ہے ، مگر اس کے لئے حج کے سفر کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ کسی وجہ سے خطر ناک ہو گیا ہے تو ایسی حالت میں یہ حکم نہیں دیا جائے گا کہ تم جان و مال کا خطرہ مول لے کر حج کے لئے نکلو ، بلکہ خود حج کا فریضہ اس کے اوپر سے ساقط ہو جائے گا۔ اسی طرح ایک شخص مرض میں مبتلا ہے۔ نماز کا وقت آیا اور اس پر نماز کی ادائیگی فرض ہوگئی لیکن اندیشہ ہے کہ اگر وہ پانی سے وضو کرے گا تو اس کا مرض بڑھ جائے گا۔ ایسی حالت میں اس سے یہ نہیں کہا جائے گا کہ تم جان پر کھیل کر وضو کرو ۔ بلکہ اس سے کہا جائے گا کہ تم مٹی سے تیمم کر کے اپنی نماز ادا کر لو ۔ اسی طرح ایک شخص بھوکا ہے اور وہ ایسے حالات میں ہے کہ وہاں خنزیر کے گوشت کے سوا کوئی اور چیز اس کے لئے قابل حصول نہیں۔ اس وقت اس سے شریعت کا مطالبہ یہ نہیں ہو گا کہ خواہ تم بھوکے مر جاؤ مگر حرام گوشت کا کوئی ٹکڑا || اپنے منہ میں مت ڈالو۔ اس کے بر عکس ایسے مضطر شخص کے لئے خنزیر کے گوشت کو کھانا جائز قرار دیدیا جائے گا۔ وغیرہ۔

شریعت کا ہر حکم استطاعت کے ساتھ مشروط ہے (التغابن (۱۶)، اسی کو حدیث میں ان الفاظ میں فرمایا کہ : اذا || امرتكم بامر فأتومنه ما استطعتم ( بخاری ومسلم ) یعنی جب میں تم کو کوئی حکم دوں تو اس میں سے جتنا تمہارے بس میں ہو اتنا کرو۔

یہ شریعت کا ایک نہایت اہم اصول ہے اور اس کا تعلق زندگی کے تمام معاملات سے ہے۔ مگر موجودہ زمانہ کے علماء اس اصول کو صرف جزئی مشقتوں پر منطبق کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں شاید کوئی بھی عالم نہیں جو اس شرعی اصول کو بڑی بڑی مشقتوں کے معاملہ میں چسپاں کرتا ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues

Printed page