Al-Risala · July 1996 · page 10

شریعت کا حکم

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۱۰

موجودہ زمانہ میں اس کوتاہی کا بے پناہ نقصان مسلمانوں کے حصہ میں آیا ہے۔ مثلاً موجودہ زمانہ میں تقریباً ہر مسلم علاقہ میں "سیاسی انقلاب" کے نام سے تحریکیں چلائی جا رہی ہیں۔ ان تحریکوں کا براہ راست ٹکراؤ حکومت وقت سے ہوتا ہے۔ حکومت وقت ان تحریکوں کو اپنے لئے سیاسی خطرہ سمجھ کر ان پر پابندی لگاتی ہے۔ اس کے بعد تحریکوں کے علمبردار تشدد پر اتر آتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ حکومت اپنی طاقت کو استعمال کر کے ان تحریکوں کو کچلنا شروع کر دیتی ہے۔ یہ واقعہ آج دنیا کے تقریباً ہر حصہ میں مختلف صورتوں میں پیش آ رہا ہے۔ مگر موجودہ زمانہ میں مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے صرف ایک ہی کام کر رہے ہیں، اور وہ شکایت اور احتجاج ہے۔ وہ تحریک چلانے والے لوگوں کو کچھ نہیں کہتے۔ البتہ حکمرا نوں کو اسلام دشمن قرار دے کر رات دن وہ ان کی مذمت میں مشغول ہیں۔

یہ طریقہ واضح طور پر اسلامی شریعت کے خلاف ہے۔ جب شریعت یہ کہتی ہے کہ جس حکم پر عمل کرنا مشقت کا باعث ہو رہا ہو وہ عمل مسلمانوں سے رفع کر دیا جاتا ہے۔ ایسی حالت میں مذکورہ نوعیت کی تباہ کن سیاست کا مطلب اپنے آپ کو ایک ایسے حکم کا مکلف بنانا ہے جس کا مکلف شریعت نے ان کو نہیں کیا۔

جب یہ ایک مسلم حقیقت ہے کہ مشقت کے موقع پر شریعت حکم کو آسان کر دیتی ہے تو یہی اصول اس سیاسی معاملہ میں بھی اپنایا جائے گا جس طرح وہ عبادت اور اکل و شرب کے معاملہ میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس حکم کا تعلق جس طرح عبادت ہے اسی طرح جہاد سے بھی ہے۔ آج اگر چہ ہر ملک میں یہ صورت حال ہے کہ حکمرانوں سے سیاسی ٹکراؤ کرنے میں مشقت پیش آ رہی ہے، مگر عین اسی وقت ہر ملک میں غیر سیاسی میدان میں کام کرنے کے مواقع پوری طرح کھلے ہوئے ہیں۔ مثلاً تعلیم و تربیت، معاشی تعمیر، اصلاح معاشرہ، دعوت و تبلیغ، وغیرہ۔ اس طرح کے بہت سے نہایت قیمتی کام ہیں جو غیر سیاسی میدان میں کئے جا سکتے ہیں۔ اور ان کو کرنے میں کسی مشقت کا کوئی اندیشہ نہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ مسلمانوں کو تباہ کن ٹکراؤ کے راستہ پر لے جا رہے ہیں اور ان کو تعمیر کے میدان میں کھلے مواقع کے استعمال کی طرف راغب نہیں کرتے وہ یقیناً شریعت سے انحراف کر رہے ہیں نہ کہ شریعت کی۔

تعمیل۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues

Printed page