Al-Risala · January 1996 · page 30

دل میں ہے اللہ کا خوف ہاتھ میں ہے کلاشنکوف

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۰

دعوت و تبلیغ کا سرے سے کوئی باب ہی نہیں ۔ اس کے برعکس اس میں جہاد و قتال کو سب سے زیادہ اہم اسلامی عمل بتایا گیا ہے ۔ یہ یقینی طور پر زمانی حالات کے زیراثر ہے۔ کمیونکہ کیونکہ ابدی تناظر میں اسلام کی سب سے بڑی خارجی تعلیم دعوت ہے ، اور جہاد (بمعنی قتال) صرف ایک اتفاقی یا نسبتی عمل ہے ۔ یعنی دعوت کا عمل علی الاطلاق طور پر ہر حال میں جاری رہتا ہے ۔ جب کہ جہاد (بمعنی قتال) صرف مخصوص شرائط و احوال میں وقتی طور پر مطلوب ہوتا ہے ۔

عام تاثر یہ ہے کہ موجودہ زمانہ میں مسلمان ایک جنگ جو قوم بن گئے ہیں ۔ اس جنگ جوئی میں کوئی براہ راست طور پر شریک ہے اور کوئی بالواسطہ طور پر ۔ مسلمانوں کے محبوب رہنما اقبال نے اس ذہن کو ان الفاظ میں بیان کیا تھا :

تیغوں کے سایہ میں ہم پل کر جواں ہوئے ہیں خنجر ہلال کا ہے قومی نشاں ہمارا مسلم نو جوان آج کل ساری دنیا میں گن اٹھائے ہوئے ہیں اور دنیا بھر کے مسلم دانشور اور علماء اس کو عملاً جہاد کہہ کر یا کم از کم خاموش رہ کر اس کی تصدیق کر رہے ہیں ۔ ان نوجوانوں کا ترانہ ان کے اپنے الفاظ میں یہ ہے :

دل میں ہے اللہ کا خوف ہاتھ میں ہے کلاشنکوف

یہ جنگ جویانہ اسلام یقینی طور پر خدا اور رسول کا اسلام نہیں ۔ خدا و رسول کا اسلام رحمت کلچر پیدا کرتا ہے نہ کہ گن کلچر ۔ پھر اس قسم کا اسلام کہاں سے آیا ۔ یہ نظریاتی طور پر اسی لٹریچر سے ماخوذ ہے جس کا اوپر ذکر ہوا۔ موجودہ زمانہ میں اس پر مزید اضافہ اسلام کی وہ انقلابی تعبیر ہے جو سید قطب اور سید ابوالاعلیٰ مودودی جیسے لوگوں نے پیش کی ہے ۔ قدیم لٹریچر میں یہ چیز صرف فکری کی کے درجہ میں تھی، مگر جدید سیاسی اور انقلابی تشریح نے اس میں اضافہ کرکے اس کو فکری برائی کے درجہ تک پہنچا دیا ۔

مذکورہ تفصیل سے یہ بات بخوبی طور پر واضح ہوتی ہے کہ ہمارے کتب خانہ کا بیشتر ذخیرہ زمانی حالات کے زیر اثر تیار ہوا ہے۔ اس لیے اس نے آج اپنی مناسبت کھودی ہے ۔ جدید انسانی ذہن کے لیے ان کے اندر سامان اطمینان موجود نہیں۔ اگر ہم اپنی جدید نسلوں کو دوبارہ اسلام کی سچی روح پر اٹھانا چاہتے ہیں تو ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ اس لٹریچر کی مذکورہ کمی کا اعتراف

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page