مسائلِ قدیم ، دلائلِ جدید
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۱
کریں ، اور پھر نیا صحت مند لٹریچر لوگوں کے مطالعہ کے لیے تیار کریں۔ یہ لٹریچر اصلاً قدیم ذخیرہ ہی پر مبنی ہوگا ۔ وہ ہرگز اس سے بے نیاز ہو کر تیار نہیں کیا جا سکتا۔ تا ہم اپنی ترتیب و انداز کے اعتبار سے وہ زمانی اسلوب اور عصری زبان کا حامل ہوگا۔ تاکہ وہ آج کے انسان کے لیے ذہنی خوراک بن سکے ۔
مسائلِ قدیم ، دلائلِ جدید
دار العلوم دیو بند کے سابق مہتمم مولانا قاری محمد طیب صاحب (۱۹۸۳ - ۱۸۹۵) جو حکیم الامت کے نام سے مشہور ہیں ، ان کا ایک طویل مقالہ میں نے پڑھا۔ یہ پور امقالہ " فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید " کے موضوع پر تھا۔ مگر اس میں مجھے اصل سوال کا کوئی واضح جواب نہیں ملا۔ مولانا طیب صاحب نے لکھا ہے کہ " اسلامی فکر کی تشکیلِ جدید کا خلاصہ دو لفظوں میں یہ ہے کہ مسائل ہمارے قدیم ہوں اور دلائلِ جدید ہوں ، تا کہ یہ نئی تشکیل قائم کر کے ہم خلافت الہی اور نیابتِ نبوی کا حق ادا کر سکیں ۔ فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید کا یہ پہلا قدم یا مرکزی نقطہ ہے جس سے ہمیں کام کا آغاز کرنا ہے اور اسی نقطہ پر اپنی تمام توانائیاں صرف کرنی ہیں ۔ " فکر اسلامی کی تشکیلِ جدید ، صفحہ ۸۳ " مسائل قدیم ہوں ، دلائلِ جدید ہوں " ـــــ یہ بات اگر قرآن کے بارہ میں کہی جائے تو وہ صد فی صد درست ہے۔ مثال کے طور پر قرآن میں یہ حکم آیا ہے کہ مرد عورتوں کے اوپر قوام ہیں (الرجال قوامون علی النساء) النساء ۳۴ قدیم علماء نے اس تقسیم کی روایتی توجیہہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عورت پر مرد کی فضیلت کا سبب یہ ہے کہ وہ عقل اور تدبیر میں عورت پر بڑھا ہوا ہے ( والتفضيل للرجال لكمال العقل وحسن التدبير) صفوة التفاسیر۱؍۲۷۴ موجودہ زمانہ میں یہ ممکن ہو گیا ہے کہ اس توجیہہ کے حق میں نئے سائنسی دلائل پیش کیے جاسکیں۔ جدید بیالوجی (علم الحیاة) کے مطالعہ سے ثابت ہوا ہے کہ عورت اور مرد کے درمیان پیدائشی طور پر ہی فرق پایا جاتا ہے۔ عورت کے جسم کے ایک ایک سل (cell) سے لے کر اس کے دماغ کی بناوٹ تک سب کی سب مرد سے مختلف ہوتی ہے۔ اس بنا پر مرد کے مقابلہ میں عورت جذباتی ، منفعل مزاج اور ضعیف ہوتی ہے۔ زندگی کے چیلنجوں کا سامنا کرنا اس کے لیے سخت مشکل ہوتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues