نیا فیصلہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۱۱
نیا فیصلہ
مراد آباد مغربی یوپی کا ایک صنعتی شہر ہے۔ یہاں کافی تعداد میں مسلمان بستے ہیں ۔ حال میں دو دن کے لئے میں مراد آباد گیا تھا وہاں ایک تقابلی واقعہ میرے علم میں آیا جس میں بہت بڑا سبق ہے ۔
اس سے پہلے ۱۳ اگست ۱۹۹۰ کو مراد آباد میں ایک واقعہ ہوا تھا۔ اس کے بعد شہر میں فرقہ وارانہ فساد ہو گیا ۔ قصہ یہ تھا کہ مراد آباد کی عید گاہ ایک نالے کے عین کنارے ہے۔ اس کی وجہ سے یہاں اکثر خنزیر گھومتے رہتے ہیں۔ ۱۳ اگست کو عید کا دن تھا ۔ عید گاہ کے وسیع میدان میں مسلمان چادریں بچھا کر نماز ادا کر رہے تھے ۔ نماز کے بعد خطبہ شروع ہوا تو ایک خنزیر عید گاہ کے اندر گھس آیا۔ وہ جب گزرا تو کچھ مسلمانوں کی چادریں گندی ہو گئیں۔ اس پر مسلمان بھرا اٹھے۔ پہلے ان کا ٹکراؤ پولیس سے ہوا جو قریب ہی کھڑی ہوئی تھی۔ اس کے بعد اس نے ہندو مسلم فساد کی صورت اختیار کرلی۔ زبردست جانی و مالی نقصان ہوا ۔ تقریباً چار مہینے تک شہر میں کرفیو لگا رہا۔ اس کے نتیجہ میں یہاں کا ایکسپورٹ بزنس تباہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ اس کو دوبارہ بحال کرنے میں پانچ سال لگ گئے ۔ اس واقعہ کے سولہ سال بعد اسی مراد آباد میں دوسرا بر عکس واقعہ پیش آتا ہے ۔ ۴ مارچ ۱۹۹۶ کو ہولی کا دن تھا۔ یہاں کے ایک بازار میں جہاں دونوں فرقہ کے لوگوں کی دکانیں ہیں ہولی کے دن ایسا ہوا کہ ایک غیر مسلم نے رنگ سے بھری ہوئی بالٹی اٹھا کر پھینکی۔ بالٹی کا رنگ پورا کا پورا سامنے کی ایک مسلم دکان میں جا پڑا۔ دکان کا فرش ہولی کے رنگ سے رنگین ہو گیا۔ پچھلے مسلم مزاج کے اعتبار سے یہ ایک اشتعال انگیز واقعہ تھا۔ مگر مسلم دکاندار اس پر مشتعل نہیں ہوئے ۔ انھوں نے سادہ طور پر صرف یہ کیا کہ دکان بند کر کے اپنے گھر چلے گئے۔ اس کے بعد دکان کا فرش بدل دیا گیا ۔ ایک ایسا واقعہ جو فرقہ وارانہ فساد برپا کرنے کے لئے کافی تھا وہ خاموشی کے ساتھ گزر گیا ۔ نہ کسی کا نقصان ہوا اور نہ بازار کی سرگرمیوں میں کوئی خلل پڑا۔ یہ کوئی منفرد واقعہ نہیں۔ آج ایسے واقعات تقریباً ہر مقام پر پیش آ رہے ہیں۔ یہ مسلمانوں کے بدلے ہوئے موڈ کو بتاتے ہیں ۔ یہ مسلمان پہلے جن واقعات پر بھڑک اٹھتے تھے اب انھوں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues