Al-Risala · July 1996 · page 12

نیا فیصلہ

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۱۲

نے ایسے واقعات کو نظر انداز کرنے کا فن سیکھ لیا ہے، اور یہ بلاشبہ ان کے لئے اور سارے ملک کے لئے نہایت مفید علامت ہے۔

آزادی (۱۹۴۷) کے بعد مسلمان اس ملک میں مطلوب ترقی نہ کرسکے۔ اس کی وجہ صرف ایک تھی، اور وہ عدم تحفظ کی وہ صورت حال تھی جس میں وہ مسلسل اپنے آپ کو پارہے تھے۔ انھوں نے اپنے نااہل لیڈروں اور دانشوروں کی غلط رہنمائی کے نتیجہ میں یہ سمجھ لیا تھا کہ ایسا اس لئے ہے کہ ملک کا ایڈمنسٹریشن ان کے حق میں متعصب ہے۔ چوں کہ مسلمان دیکھ رہے تھے کہ ایڈمنسٹریشن اس معاملہ میں ان کی امیدیں پوری نہیں کر رہا ہے اس لئے وہ اس کے خلاف احتجاج کرنے لگے اور جب احتجاج سے بھی مقصد پورا نہیں ہوا تو وہ مایوسی کا شکار ہوگئے۔ مگر یہ سوچ بجائے خود غلط تھی۔ پولیس اور ایڈمنسٹریشن کی بھی اسی طرح ایک حد ہے جس طرح ہر معاملہ کی ایک حد ہوتی ہے۔ وہ حد یہ ہے کہ پولیس اور ایڈمنسٹریشن وہاں کام کرتے ہیں جہاں معاملہ انفرادی ہو۔ جب کوئی معاملہ عمومی یا عوامی بن جائے تو وہاں پولیس اور ایڈمنسٹریشن اس کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے۔

دو قومی نظریہ اور دوسرے مختلف اسباب سے اس ملک میں یہ ہوا ہے کہ ہندو اور مسلمان نفسیاتی اعتبار سے دو متقابل گروہ بن گئے ہیں۔ نااہل لیڈروں نے اپنی مسلسل نادانیوں سے دونوں میں اس اعتبار سے حساسیت بہت بڑھادی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلمان اور ایک ہندو کے درمیان جب جھگڑے کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو فوراً ہی بڑھ کر وہ دو فرقہ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ یہی وہ غیر معتدل صورت حال ہے جس نے اس معاملہ میں پولیس اور ایڈمنسٹریشن کو بے بس بنا دیا ہے۔ جہاں اس نوعیت کی نزاکت نہ ہو وہاں جب دو آدمیوں میں نزاع ہوتی ہے تو وہ دو فرد یا زیادہ سے زیادہ دو خاندان کی نزاع ہوتی ہے۔ ایسی نزاع کو کنٹرول کرنا پولیس اور ایڈمنسٹریشن کے لئے آسان ہوتا ہے۔ مگر جب مذکورہ قسم کے حالات ہوں تو ہمیشہ ایسا ہوتا ہے کہ دو آدمیوں کی نزاع فوراً پھیل کر دو فرقوں کی نزاع بن جاتی ہے۔ اس توسیع کی بنا پر وہ مسئلہ پولیس اور ایڈمنسٹریشن کے اختیار سے باہر کا مسئلہ بن جاتا ہے یہی خاص وجہ ہے جس کی بنا پر مسلمانوں کے بے شمار احتجاج اور شکایت کے باوجود ایڈمنسٹریشن

‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues

Printed page