نیا فیصلہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۱۳
کے لئے اس کو کنٹرول کرنا ممکن نہ ہوسکا۔
مراد آباد کا واقعہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات بتاتے ں کہ اب مسلمانوں نے اس حقیقت کو دریافت کر لیا ہے کہ اس مسئلہ کا حل خود ان کے پاس موجود ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ نزاعی موقع پر تحمل کا طریقہ اختیار کر کے وہ معاملہ کو اول مرحلہ ہی میں ختم کر دیں اور اس کی نوبت ہی نہ آنے دیں کہ وہ پھیلے اور دو فرد کے بجائے دو فرقہ کا مسئلہ بن جائے۔ ہر سماج میں نزاعی واقعات پیش آتے ہیں۔ یہ خود فطرت کے نظام کی بنا پر ہے نہ کہ کسی کی سازش کی بنا پر۔ اس لئے یہاں ایسے واقعات کا پیش آنا بالکل بند نہیں ہوسکتا۔ جو چیز بند ہوسکتی ہے وہ یہ کہ مسلمان ایسے مواقع پر مشتعل ہونا چھوڑ دیں۔ اس طرح چنگاری ہی پہلے ہی مرحلہ میں بجھ جائے گی۔ وہ پھیل کر دو فرقوں کا تباہ کن مسئلہ نہیں بنے گی جیسا کہ مراد آباد میں ہولی کے معاملہ میں پیش آیا۔
کسی بھی ترقی کے لئے امن لازمی طور پر ضروری ہے۔ مسلمان چوں کہ اشتعال انگیزی کے مواقع پر بھڑک اٹھتے تھے اس لئے فساد کی نوبت آ جاتی تھی اور امن کی فضا بار بار بھنگ ہو جاتی تھی۔ اس کا نتیجہ یہ تھا کہ استقلال کے ساتھ کسی ترقیاتی کام میں مصروف ہونا ان کے لئے ناممکن ہو گیا تھا۔ اب نئے حالات ملک میں وہ معتدل فضا فراہم کر رہے ہیں جس کو امن کی فضا کہا جاتا ہے۔ اس بنا پر مسلمانوں کے لئے تعمیر و ترقی اور تعلیم و تجارت جیسے کاموں میں سرگرم ہونا ممکن ہو گیا ہے۔ پچھلے چند سال میں ملک کے مختلف علاقوں کے سفر کے دوران میں نے پایا ہے کہ مسلمانوں میں واضح تبدیلی آئی ہے۔ وہ اعراض کا اصول اختیار کر کے نہایت تیزی کے ساتھ تعمیری میدانوں میں سرگرم ہوتے جارہے ہیں۔
اس طرح ہندوستان کے مسلمانوں میں ایک نیا آغاز ظہور میں آچکا ہے۔ اور صحیح آغاز ہمیشہ صحیح انجام تک پہنچتا ہے۔ یقینی ہے کہ اس ملک کے مسلمان اب تیزی سے ترقی کریں گے۔ اور ان کی ترقی ملک کی مجموعی ترقی میں اضافہ کا ذریعہ بنے گی۔ یہاں تک کہ یہ محسوس کیا جانے لگے گا کہ مسلمان اس ملک کے لئے بوجھ (liability) نہیں ہیں بلکہ وہ اس ملک کا سرمایہ (asset) ہیں۔ وہ ملک کی آبادی کا ایک تخلیقی حصہ ہیں نہ کہ کوئی جامد یا غیر مفید حصہ۔
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues