مسلمانوں کا سیاسی المیہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۱۴
مسلمانوں کا سیاسی المیہ
ہندوستان میں مسلمان اتنی بڑی تعداد میں ہیں کہ وہ پارلیمنٹ کی تقریباً سیٹوں کے انتخابی حلقہ میں فیصلہ کن بن سکتے ہیں۔ وہ اس ملک میں توا زنِ طاقت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امکانی طور پر وہ اس پوزیشن میں ہیں کہ الیکشن میں وہ کسی سیاسی پارٹی کو ہرائیں اور کسی پارٹی کو کامیاب بنا دیں۔
مگر حیرت ناک بات یہ ہے کہ مسلمان ہی وہ فرقہ ہیں جو اس ملک میں سب سے زیادہ سیاسی محرومی کا شکار ہیں۔ ذاتی طور پر بعض مسلم افراد کچھ اتفاقات سے فائدہ اٹھا کر کوئی سیاسی منصب ضرور حاصل کر لیتے ہیں۔ مگر بحیثیت مجموعی مسلم ملت کا اس ملک میں کوئی سیاسی مقام نہیں۔ نہ ملک کی سیاست میں ان کا کوئی دخل ہے اور نہ باہر کے مسلم ممالک سے سیاسی تعلقات قائم کرنے میں ان کا کوئی حصہ ہے۔ حتیٰ کہ اس ملک میں مسلمانوں کو اتنا سیاسی مقام بھی حاصل نہیں جتنا سیاسی مقام سری لنکا جیسے چھوٹے ملک کی مسلم اقلیت نے حاصل کر لیا ہے۔
مسلمانوں کے لکھنے اور بولنے والے عام طور پر اس کی ذمہ داری دوسروں پر (بالفاظِ دیگر ہندوؤں پر) ڈالتے ہیں۔ مگر میں اس کو بالکل بے بنیاد سمجھتا ہوں۔ اس دنیا میں خود خدا کے قانون کے تحت، چھپنا اور ملنا، دونوں کے اسباب ہمیشہ داخل میں ہوتے ہیں نہ کہ خارج میں۔ اس قسم کی کوئی توجیہہ بد ائنہ ہی قابلِ رد ہے۔ کیوں کہ وہ قانونِ فطرت کے سراسر خلاف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس المناک صورتِ حال کی تمام تر ذمہ داری مسلمانوں کے نااہل لیڈروں پر ہے۔ مسلمان دراصل خود اپنے نکمے لیڈروں کے نکے پن کی قیمت ادا کر رہے ہیں۔ کیوں کہ انھوں نے مسلمانوں کے درمیان صرف سطحی سیاستیں چلائیں۔ انھوں نے مسلمانوں کے اندر صحیح سیاسی شعور پیدا نہیں کیا جو اس اعتبار سے کرنے کا اصل کام تھا۔ اگر آپ الیکشن کے زمانہ میں کسی شہر میں نکلیں تو آپ کو سب سے زیادہ الکشن دھوم مسلمانوں کے محلہ میں دکھائی دے گی۔ ہندو محلے یا دوسرے فرقوں کے محلے نسبتاً الکشنتی ہنگاموں سے خالی نظر آئیں گے۔ یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ مسلمانوں کی وہ کون سی غلطی ہے جس نے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues