مسلمانوں کا سیاسی المیہ
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۱۶
ان کوئی تعلق ہی نہیں ۔ ٹریڈ یونین ازم کا حال تو یہ ہے کہ اس کا تصور تک مسلمانوں میں پایا نہیں جاتا، وغیرہ ۔
پچھلے پچاس سال میں نام نہاد مسلم لیڈروں کی رہنمائی میں مسلمانوں نے سیاسی عمل کے نام سے جو کچھ کیا ہے ، وہ یہ ہے کہ آ نہ آدمی کے بعد ایک عرصہ تک وہ بس کانگریس کو ووٹ دیتے رہے ۔ مگر اس پوری مدت میں کانگریس کے تنظیمی ڈھانچہ میں شرکت کے لئے انھوں نے کوئی کوشش نہیں کی۔ اس کے بعد جب انھیں کانگریس سے مایوسی ہوئی تو انھوں نے منفی ووٹنگ کا طریقہ اختیار کیا۔ اب انھوں نے ہر اس پارٹی کو ووٹ دینا شروع کیا جو کانگریس کے خلاف شور و غل کر رہی ہو ۔ یہ سلسلہ تا دم تحریر جاری ہے ۔
میں سمجھتا ہوں کہ مسلمان اگر یہ چاہتے ہیں کہ وہ ملک میں اپنا جائز سیاسی مقام حاصل کریں، تو سب سے پہلے انھیں ملک کے سیاسی عمل میں شریک ہونا پڑے گا ۔ اس کے بعد ہی وہ کوئی حقیقی انتخابی منصوبہ بنا سکتے ہیں یا ملک کے انتخابات میں شریک ہو کر کوئی قابل ذکر فائدہ حاصل کر سکتے ہیں ۔ اس سلسلہ میں مسلمانوں کے پاس طاقت ور قومی صحافت کا ہونا بہت ضروری ہے۔
موجودہ زمانہ میں جس گروہ کی صحافت نہیں ، اس کی کوئی سیاست بھی نہیں۔ تاہم قومی صحافت اس طرح وجود میں نہیں آسکتی کہ "قومی اخبار" کے نام سے ایک روز نامہ جاری کر دیا جائے ۔ اس کے لئے مسلمانوں کو صنعت کے میدان میں آنا ہوگا ۔ موجودہ زمانہ میں صنعت ہی وہ ادارہ ہے جو اخبارات کو غذا دیتا ہے ۔ بڑی صنعتوں میں جب تک مسلمانوں کا کوئی قابل ذکر حصہ نہیں ہوگا، اس وقت تک ان کی کوئی قابل ذکر صحافت بھی وجود میں نہیں آسکتی۔
قومی صحافت کے میدان میں مسلمانوں کی پس ماندگی یا ان کی عدم نمائندگی اس نوبت کو پہنچی ہے کہ وہ اس آخری امکان کو بھی استعمال نہ کر سکے جو خود اپنی صحافت نہ ہونے کے باوجود اب بھی انھیں حاصل تھا۔ وہ ہے موجودہ بڑے بڑے اخبارات میں جاری قومی بحثوں میں حصہ لینا ۔ میں بیشتر بڑے بڑے قومی اخبارات کو دیکھتا ہوں ۔ مگر ان میں جب بھی کہیں کوئی مسلم نام ہوتا ہے تو پیشگی طور پر معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ کسی نہ کسی اعتبار سے ملی شکایت یا ملی احتجاج کی نوعیت کی کوئی تحریر ہوگی ۔ ان اخبارات کے مضامین یا خطوط کے کالم میں کبھی کبھی مسلمانوں کے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues