مسائلِ قدیم ، دلائلِ جدید
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۲
ایسی حالت میں یہ بالکل فطری ہے کہ گھر اور سماج کے نظام میں مرد کو عورت کے اوپر قوام کا درجہ دیا جائے ۔
اس طرح جدید سائنس نے ہم کو یہ موقع دیا ہے کہ ہم ایک قدیم مسئلے کے حق میں جدید دلائل پیش کر سکیں اور اس کو از سر نو مدلل کر کے لوگوں کے سامنے لے آئیں ۔ مگر ” مسائل قدیم ہوں اور دلائل جدید ہوں “ کا نظریہ فقہ کے بارہ میں کلی طور پر درست نہیں ہو سکتا ۔ کیوں کہ قرآن اپنی نوعیت کے اعتبار سے ابدی ہے ۔ جب کہ فقہ کی حیثیت اس کے مقابلہ میں وقتی اور زمانی ہے ۔
مثال کے طور پر ہماری مدون فقہ پوری دنیا کو دو خطوں میں تقسیم کرتی ہے ــــــــ دار الاسلام اور دار الحرب ۔ دار الاسلام وہ ملک ہے جہاں اسلام کا قانون نافذ ہو ۔ اور دار الحرب وہ ملک ہے جہاں اسلام کا قانون نافذ نہ ہو ۔ اس فقہ کی روشنی میں ، مسلمان دار الحرب کے مقابلہ میں امکانی طور پر بر سر جنگ قوم کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ قاری طیب صاحب کے مذکورہ اصول کے مطابق ، اس قدیم فقہی اصول کو جدید دلائل سے آراستہ کرکے دوبارہ مستحکم کیا جانا چاہیے ۔ مگر میں سمجھتا ہوں کہ یہ طرزِفکر یقینی طور پر درست نہیں ۔ آج اصل ضرورت یہ ہے کہ اس فقہی تقسیم پر نظر ثانی کی جائے ، نہ کہ اس کو از سر نو مدلل کرنے کی ناکام کوشش کی جائے ۔
قدیم فقہ اور جدید حالات میں فرق کی بنا پر اس طرح کے بہت سے نئے مسائل پیدا ہو گئے ہیں ۔ مگر جامد تقلید کی بنا پر لوگ نہ تو انھیں سمجھ سکے اور نہ اس کے حل کی راہ نکالنے میں کامیاب ہوئے ۔ خلاف زمانہ تفکیر فقہ کی کتابوں میں ” دار الحرب “ کی جو تعریف کی گئی ہے ، اس کو لفظی طور پر لیجیے تو موجودہ دنیا کے تمام ملک دار الحرب قرار پاتے ہیں ۔ اور جب کوئی ملک دار الحرب کی حیثیت اختیار کر لے تو خود اسی فقہ کے مطابق ، مسلمانوں پر دو میں سے ایک چیز لازم ہو جاتی ہے ۔ یا تو جنگ کر کے اس کو دار الاسلام بنائیں ۔ یا وہاں سے ہجرت کر کے کسی دار الاسلام میں چلے جائیں ۔ مگر آج حالت یہ ہے کہ مسلمانوں میں جنگ کرنے کی طاقت نہیں ۔ اور جہاں تک دوسرے انتخاب (ہجرت) کا سوال ہے تو بقول مولانا شبلی نعمانی :
‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues