سفر نامہ برطانیہ - ۲
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۲۱
سفر نامہ برطانیہ - ۲
پھر میں نے کہا کہ مذہبی اختلاف کا تعلق صرف ہندو اور مسلمان سے نہیں ہے۔ یہ اختلافات خود ہندوؤں اور ہندوؤں میں بھی پائے جاتے ہیں۔ مثلاً ہندوؤں کا ایک طبقہ بتوں کی پرستش کو صحیح مذہب سمجھتا ہے، دوسرا طبقہ بت پرستی کو بالکل غلط بتاتا ہے اور اس کا کھنڈن کرتا ہے۔ اس طرح کے بے شمار اختلافات ہندوؤں کے درمیان پائے جاتے ہیں۔ پھر ہندو اگر باہمی اختلاف کے باوجود مل کر رہ سکتے ہیں تو ہندو اور مسلمان باہمی مذہبی اختلاف کے باوجود مل کر کیوں نہیں رہ سکتے۔ میں نے کہا کہ اس معاملہ کا فیصلہ بہت عمدہ طور پر سوامی ویویکانند نے کر دیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک کی پیروی کرو اور دوسروں سے نفرت نہ کرو :
Follow one and hate none.
انھوں نے آپ کی تجویز کے مطابق یہ نہیں کہا کہ : Follow one and believe in all یعنی ایک کی پیروی کرو اور سب کو سچ مانو ۔ گویا اصل چیز دوسرے مذہبوں کو سچا ماننا نہیں ہے بلکہ دوسرے مذہبوں کو ہیٹ نہ کرنا ہے ، اسی اصول پر ساری دنیا کا نظام چل رہا ہے اور اسی اصول پر ہندوستان کا نظام بھی چلے گا۔
لندن میں پاکستان کے لوگ بڑی تعداد میں رہتے ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ پاکستانی نے مولانا ابو الاعلیٰ مودودی کے قول کو دہرایا کہ " پاکستان اسلام کے نام الاٹ ہو چکا ہے۔ " انھوں نے کہا کہ پاکستان اسلام کے لئے بنایا گیا اور پاکستان میں اسلام کا نظام ہی قائم ہو گا ۔ کسی دوسرے نظام کو یہاں چلنے نہیں دیا جائے گا۔
میں نے کہا کہ کوئی خطہ ارض اسلامی نظام نہیں بناتا بلکہ انسان اسلامی نظام بناتے ہیں۔ اس معاملہ میں پہلی غلطی اور نگ زیب نے کی۔ انھوں نے بڑا زمینی خطہ حاصل کرنے کے لئے لڑائیاں کیں تاکہ اس میں ایک عظیم اسلامی ایمپائر بنایا جا سکے ۔ مگر جب زمینی خطہ مل گیا تو معلوم ہوا کہ اسلامی ایمپائر بنانے کے لئے اصل ضرورت انسان کی ہے۔ چوں کہ اور نگ زیب کے پاس مطلوب انسان موجود نہ تھے اس لئے خطہ ارض مل جانے کے باوجود مطلوبہ اسلامی سلطنت نہ بن سکی۔ اس قسم کی بھیانک غلطی ایک بار کافی تھی۔ مگر پاکستان کے مفکرین نے یہی غلطی دوبارہ کی۔ انھوں نے ایک زمینی ٹکڑا حاصل کرنے کے لئے پورے برصغیر کے مسلمانوں کو تہ و بالا کر دیا۔ اور آخر میں معلوم ہوا کہ یہاں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues