Al-Risala · July 1996 · page 22

Follow one and hate none.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۲۲

اسلامی نظام نہیں بن سکتا، کیوں کہ اس کے لئے ضروری انسانی ٹیم موجود نہیں ہے۔ روزانہ میں کمرہ ہی میں صبح کا ناشتہ کرتا تھا۔ یکم اگست کو ناشتہ کے لئے میں ہوٹل کے مطعم میں چلا گیا۔ وہاں اتفاق سے منو بھائی مادھوانی اپنی اہلیہ کے ساتھ موجود تھے۔ وہ بھی آکر میری میز پر بیٹھ گئے۔ ہم لوگوں نے ساتھ ہی ناشتہ کیا۔

مادھوانی پریوار سب کا سب نہایت سادہ اور متواضع ہے۔ خاندان کے تمام افراد ہر وقت مشارکین کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ حالانکہ مسٹر مادھوانی یہاں کے ارب پتی افراد میں سے ہیں ۔ انھوں نے ہندوستانی معیار سے تین کروڑ روپیہ اس کانفرنس کے لئے دیا ہے۔ میں نے منو بھائی مادھوانی سے پوچھا کہ آپ بزنس کے میدان میں ہیں، یہ بتائیے کہ بزنس میں کامیابی کا راز کیا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ میرے باپ ہم لوگوں کو تین بات بتایا کرتے تھے :

1. Money is not your wealth. Your people are your wealth 2. When there is a will there is a way. 3. Be firm and kind, God will give you. میں نے پوچھا کہ "پیپل" کو آپ کس طرح تیار کرتے ہیں ۔ انھوں نے کہا کہ میں صرف یہی کام کرتا ہوں ۔ میں نہ بنک جاتا اور نہ آفس میں بیٹھتا۔ میں مختلف دلیشوں میں گھومتا رہتا ہوں اور کام کے آدمی تلاش کرتا ہوں ۔ خاص طور پر نوجوانوں میں ۔ جہاں کوئی نوجوان مجھے کام کا نظر آیا، میں اس کو فوراً اٹھا لیتا ہوں اور پھر اس کو پورا چانس دیتا ہوں ۔

میں نے پوچھا کہ آدمیوں کے انتخاب میں آپ کا اندازہ غلط بھی ثابت ہوتا ہوگا۔ پھر اس کی شرح اب تک کیا رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ مشکل سے تین فیصد ۔ انھوں نے کہا کہ میری کوشش سب سے زیادہ یہ ہوتی ہے کہ اچھا مینیجر تلاش کروں۔ میرا کام بہت سے دلیشوں میں پھیلا ہوا ہے۔ جدہ (سعودی عرب) میں بھی ہمارا آفس ہے، مگر یہ سارا کام میرے مینیجر چلا رہے ہیں۔ ایک بات انھوں نے یہ بتائی کہ میں اپنے رشتہ داروں کو کبھی نہیں لیتا۔ میں ہمیشہ خاندان سے باہر کے آدمی کا انتخاب کرتا ہوں۔ یہ میرا مستقل اصول ہے۔

یکم اگست کو میری تقریر تھی۔ میں نے کہا کہ آج کی دنیا کو سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ امن ہے اور امن روحانی ترقی (spiritual uplift) کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues

Printed page