Follow one and hate none.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۲۳
ہمیں نے بتایا کہ انسان پیدائشی طور پر ایک روحانی مخلوق ہے۔ اس لئے انسان کو روحانی بنانا نہیں ہے، بلکہ اس کی روحانیت کو بچانا ہے۔ اس دنیا میں بار بار آدمی کے ساتھ نا خوشگوار واقعات پیش آتے ہیں۔ بار بار اس کو زیادتی کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس قسم کے واقعات آدمی کے اندر منفی جذبات ابھارتے ہیں جو روحانیت کو بھنگ کرنے والے ہیں۔
ایسی حالت میں اپنی پیدائشی روحانیت کو باقی رکھنے کا راز صرف ایک ہے۔ وہ یہ کہ آدمی منفی چیزوں کو مثبت چیزوں میں تبدیل کر سکے ۔ ہم میں سے ہر ایک کو یہی فن سیکھنا ہے۔ عام طور پر میری تقریر کو پسند کیا گیا۔ گنگوتری کے سوامی جی نے کہا: ایسا لگتا تھا کہ ہر دلے کو بھاشا مل رہی ہو۔ میرے بعد چیف جتھیار پر و فیسر منجیت سنگھ کی تقریر ہوئی ۔ انھوں نے ایک قصہ سنایا کہ کچھ عیسائی بر نار ڈشا کے پاس آئے ۔ انھوں نے گیلیلیو کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے یہ کہا تھا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ مگر چرچ نے اس کو سزا دی کیوں کہ یہ نظریہ چرچ کے عقیدے سے ٹکراتا تھا۔ بر نار ڈشانے کہا کہ گیلیلیو نے جھوٹ کہا۔ لوگوں نے پوچھا کیوں ، بر نار ڈشانے جواب دیا؛ جس سیارہ پر بر نار ڈشا پیدا ہوا ہو وہ بھلا کسی اور سیارہ کا سٹلائٹ ہو سکتا ہے۔ یہ ایک طنز تھا۔ بر نار ڈشا کا مطلب یہ تھا کہ لوگ اپنی ذات سے سچائی کو ناپتے ہیں۔ وہ اس سچائی کا انکار کر دیتے ہیں جس میں ان کے خیال کے مطابق، ان کا اپنا قد چھوٹا ہو رہا ہو۔
جلسہ کے دوران مجھے ٹائیلٹ جانے کی ضرورت پیش آئی ۔ ایک صاحب نے رہنمائی کر کے باہر پہنچایا۔ یہاں پنڈال سے متصل خوبصورت کیبن کی صورت میں بہت سے باتھ روم کھڑے کے ہوئے تھے۔ یہ سب جدید طرز کے نہایت صاف ستھرے باتھ روم تھے۔ اس میں بھی ہندوستان اور انگلینڈ کا فرق نمایاں طور پر دکھائی دیا۔
یکم اگست کی شام کو ہوٹل کے لان میں شامیانہ کے تحت ایک میٹنگ (ورک شاپ)
ہوئی ۔ اس کا موضوع جین ازم تھا۔ منی جی چید اندر سرسوتی نیویارک سے آئے تھے ۔ انھوں نے جین ازم کے تعارف پر ایک تقریر کی ۔ اس کے بعد سوال و جواب ہوا۔
حاضرین میں سے ایک ہندو نے سوال کیا کہ آپ لوگ اہنسا کو مطلق (absolute) مانتے ہیں۔ آپ کے نزدیک یدھ کسی بھی حال میں جائز نہیں ۔ مگر ہندو ٹریڈیشن کے مطابق رام اور کرشن دونوں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues