Follow one and hate none.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۲۷
لیڈروں کی اسی پالیسی کی وجہ سے دلیش کھنڈ کھنڈ ہور ہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ میں منی پور (آسام) گیا وہاں میں بازار میں تھا کہ ایک شخص نے پوچھا کہ آپ کیا انڈیا سے آرہے ہیں: Are you coming from India? گویا کہ انڈیا یا ایک الگ ملک ہے۔ وہ اپنے کوانڈین نہیں کہتے۔ علیدگی پسندی کی یہ ذہنیت ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ لیکن میرا خیال ہے کہ لوگ پیسہ کمانے میں اتنا زیادہ مشغول ہیں کہ وہ کسی اور چیز کے لئے بہت زیادہ سنجیدہ نہیں ہوپاتے۔
برطانیہ میں لڑکوں اور لڑکیوں کا مسئلہ بہت عام ہے۔ اکثر والدین اس مسئلہ سے پریشان ہیں۔ ایک روز ایک نوجوان مرداور ایک نوجوان عورت مجھ سے ملنے کے لئے آئے۔ عورت مسلمان تھی اور مرد ہندو۔ دونوں شادی کرنا چاہتے تھے ۔ مگر دونوں کے والدین نے مخالفت کی۔ اس لئے دونوں ہی کو اپنے والدین کے گھر کو چھوڑ دینا پڑا۔ اب دونوں کہیں الگ رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم کو ایک دوسرے سے لو (Love) ہو گیا ہے۔ مگر ہمارے پیرینٹ ہم کو میریج کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ آپ بتائیے کہ ہم کیا کریں۔
میں نے کہا کہ زندگی میں اصل چیز لو نہیں ہے، اصل چیز نباہ ہے۔ لو کا تعلق جذبات سے ہوتا ہے اور نباہ کا تعلق عقل سے۔ اگر لو اصل چیز ہوتی تو نہ آپ اپنے ماں باپ کو چھوڑتے اور نہ یہ خاتون اپنے ماں باپ کو چھوڑتیں۔ پھر جب اولاد اور والدین کی خونی محبت ٹوٹ گئی تو میاں بیوی کی غیرخونی محبت کیسے نہیں ٹوٹے گی۔ ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں لو میریج کا طریقہ اختیار کرکے تباہ ہوچکے ہیں، پھر آپ کیوں اسی آزمائے ہوئے راستہ کو دوبارہ آزمانا چاہتے ہیں۔
ڈاکٹر ایل ایم سنگھوی اس وقت لندن میں انڈیا کے ہائی کمشنر ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے جب میں واشنگٹن میں انڈیا کے سفیر کی حیثیت سے تھا تو مجھے معلوم ہوا کہ امریکہ کے مسلمانوں میں بریلوی اور دیوبندی کا جھگڑا ہے۔ انہوں نے پوچھا کہ یہ بریلوی اور دیوبندی کون لوگ ہیں اور ان میں کیا فرق ہے۔ یورپ اور امریکہ کی مسجدوں میں ہر جگہ یہ جھگڑے پائے جاتے ہیں۔ لندن کی گرین ڈ مسجد میں میں نے نماز پڑھی تو وہاں میں نے دیکھا کہ مسجد کے باہر طرح طرح کے ہینڈ بل تقسیم کئے جارہے ہیں۔ مثلاً ایک ہینڈ بل میں تھا کہ عمر بکر می محمد کا محاضرہ (لیکچر) فلاں مسجد میں
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues