Follow one and hate none.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۲۸
محافظہ کی خبر تھی۔ اس کا عنوان یہ تھا: الطریق الی الدولة الاسلامية۔ ایک ہند بل میں مؤتمر الخلافة اور اس کی سرگرمیوں کا تذکرہ تھا۔
یہاں سنتوں کی سیو 1" کے لئے جو عورت اور مرد کام کر رہے ہیں وہ سب اونچے گھرانوں کے لوگ ہیں۔ انھیں میں سے ایک خاتون ایک نوجوان کو لے کر میرے کمرہ میں آئی۔ اس نے کہا کہ یہ میرے منگیتر ہیں، آپ ہم دونوں کو آشیرید دیجیئے کہ ہمارا جیون سفل رہے۔ میں نے نوجوان کے سر پر اپنا ہاتھ رکھ کر ان کے حق میں دعا کی۔ ہندوستان کے سماج میں کسی عورت کا اس طرح کہنا بہت انوکھی بات ہے۔ لیکن مغربی سوسائٹی میں یہ بہت معمولی چیز ہے۔ نوجوان کو میں نے دیکھا تو وہ چہرے سے ایک شریف اور سنجیدہ آدمی نظر آیا۔
ایک روز صبح کو میں ہوٹل کے باہر ٹہل رہا تھا۔ ٹہلتے ہوئے میں ایک گوشے میں پہنچا۔ معلوم ہوا کہ یہ یہاں کا کوڑا خانہ ہے۔ مگر یہ کوڑا خانہ ویسا نہ تھا جو دہلی کی سڑکوں کے کنارے سے دکھائی دیتا ہے جہاں ایک کھلی ہوئی جگہ پر ہر قسم کا کوڑا ڈھیر کر دیا جاتا ہے۔ یہاں میں نے دیکھا کہ اس کوڑا خانہ کے اندر مخصوص قسم کی بند گاڑیاں ہیں جن میں پہیہ لگا ہوا ہے۔ یہ گاڑیاں بھی کہ یہ منظر نہیں تھیں بلکہ نپلے رنگ میں رنگی ہوئی خوبصورت گاڑیاں تھیں اور ان پر لکھا ہوا تھا: کلین اوے (Clean away) لوگ اپنا کوڑا ان بند گاڑیوں میں رکھ دیتے ہیں۔ پھر صفائی کے محکمہ کی گاڑیاں آکر ان کو اٹھا لے جاتی ہیں۔ ایک سکھ پروفیسر جو اس جلسہ میں شرکت کے لئے انڈیا سے آئے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ یہاں سے مجھ کو امریکہ جانا ہے۔ وہاں کے کچھ سردار لوگوں نے ان کو بلایا تھا کہ آپ آکر ہمارے بچوں کو سمجھائیں کیوں کہ وہ بہت بگڑتے جا رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہی انڈیا سے آئے ہوئے تمام ندہی فرقوں کا مسئلہ ہے۔ مگر سمجھانے بجھانے سے کچھ ہونے والا نہیں۔ آپ یہاں اپنا کلچر ڈ جنیئرہ بنا کر نہیں رہ سکتے۔ جو لوگ یہاں پیسہ کی خاطر آئے ہیں اس کی انھیں بہر حال یہ قیمت ادا کرنا ہے کہ ان کے لڑکے اور لڑکیاں ویسٹرن
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues