Al-Risala · July 1996 · page 31

Follow one and hate none.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۳۱

کیے گئے ۔ ایک ہندو سوال کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو پہلے انہوں نے دو بار السلام علیکم کہا ۔ اس کے بعد اپنا سوال پیش کیا ۔ جلسہ کے بعد جب میں منچ سے اٹھ کر جانے لگا تو جدھر جاتا ہر ایک السلام علیکم کہتا ۔ عورت اور مرد سب ایسا ہی کر رہے تھے ۔ یہ گویا ان کی طرف سے اپنی پسندیگی کا اظہار تھا ۔ کچھ انتہا پسند عرب نو جوان بھی جلسہ میں موجود تھے ۔ ایک صاحب نے کہا کہ وہ قصدًا یہاں آئے تھے اور انہوں نے گیٹ پر کچھ پمفلٹ بھی تقسیم کئے ۔ ایک پمفلٹ کا عنوان تھا : An invitation to think اس میں یہ بتاتے ہوئے کہ اس دنیا کا ایک خدا ہے ، یہ کہا گیا تھا کہ اس نے ایک مکمل نظام حیات ہم کو دیا ہے ، یہ اسلام ہے ۔ اسلام سرمایہ دارانہ نظام کا حقیقی بدل ہے جس کا آج ہم شکار ہو رہے ہیں : Islam is the true alternative to the capitalist dominated world we are suffering from. اسلام کو پیش کرنے کا یہی وہ طریقہ ہے جس نے اسلام کو لوگوں کی نظر میں ایک جنگجو مہذب بنا دیا ہے ۔ خدا ہمارا خالق ہے ، وہی ہمارا الہٰ ہے ، یہ بات صد فی صد درست ہے ۔ مگر اس کے بعد جو بات کہنے کی ہے وہ یہ کہ ہر آدمی اللہ کا پرستار بنے ۔ وہ اپنے آپ کو اللہ کے رنگ میں رنگ لے ۔ اس کے بجائے یہ لوگ عقیدۂ توحید کو بیان کرنے کے بعد فوراً یہ کہتے ہیں کہ خدا کے دین کو مکمل نظام کے طور پر زمین کے اوپر قائم کرنا ہے ۔ اس لئے ضروری ہے کہ موجودہ غیر خدا ئی نظام کو توڑا جائے تاکہ اس کی جگہ خدائی نظام کو نافذ کیا جاسکے ۔ اس طرح سارا معاملہ " اسلام ورسس سسٹم " بن جاتا ہے ، حالاں کہ اصل معاملہ " اسلام ورسس انڈیویجول " ہے۔

ان عرب نوجوانوں نے میری تقریر کے بعد کچھ تیز و تند سوال بھی کئے ۔ مثلاً یہ کہ پیغمبر کا اصل کام بتوں کو توڑنا تھا ، آپ نے کافروں سے لڑائیاں کیں ۔ اور آپ یہاں کہہ رہے ہیں کہ اسلام امن اور سلامتی کا مذہب ہے ۔ میں نے ہر سوال کا جواب ٹھنڈے طریقہ سے دیا۔ سوامی چندر اندر نے بعد کو میرے طریقہ کی تائید کرتے ہوئے کہا : اشتعال کو ڈیفیوز کرنے کا آسان طریقہ صرف ایک ہے ــــ نوری ایکشن (no re-action) سوامی چندر اندر بڑی خصوصیات کے آدمی ہیں ۔ جب بھی ان کی تعریف میں کچھ کہا جائے تو فوراً وہ کہیں گے : پر بھو کی کر پا ہے ۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues

Printed page