Follow one and hate none.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۳۳
کلمۂ حق کو قابلِ قبول بنانا تو درکنار اس کو لوگوں کے لئے قابلِ سماعت بنانا بھی عملاً ناممکن بن گیا ہے۔ آج داعیِ حق بولے تو اس کی بول اس عمومی ہنگامہ میں صرف شور میں ایک اضافہ بن کر رہ جاتی ہے۔ سنت شری بھائی اور جانے کہا کہ میں کو مٹاتے جاؤ، مٹاتے جاؤ تو آخر میں کیوں پر ماتا ہی بچے گا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں میں گیتا پر بول رہا تھا کہ ایک ہندو نوجوان نے کھڑے ہو کر سوال کیا کہ گیتا کے شری کرشن بار بار میں کی زبان بولتے ہیں، آخر وہ اتنے خود پسند (egoist) کیوں ہیں۔ تقریروں کے بعد مراری باپو (باپوجی) کی کتھا شروع ہوئی۔ وہ مختلف قسم کے کلمات دہراتے تھے اور مجمع بھی تالیاں بجا کر انہیں دہراتا تھا۔ مثلاً کر پاکرو گڑ و ڈپلو کی نائی۔ وہ راماائن سے لے کر ہنو مان جی کے قصہ کی تشریح کرتے ہیں۔ اس کا انہیں خاص ملکہ حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ سنت لوگ کتھا کرتے ہیں اپنی مستی کے لئے ، دوسروں کو سنانے کے لئے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ باغ میں پھول کو ہر آدمی اپنے اپنے ڈھنگ سے دیکھتا ہے۔ پر بھگت پھول کو دیکھ کر کہہ اٹھتا ہے کہ پھول اتنا سندر ہے لو میرا کرشن کتنا سندر ہو گا۔ میں نے کہا کہ موحد اسی کو اس طرح کہے گا کہ خدا کتنا سندر ہوگا۔ مراری باپو کا اور میرا اس سے پہلے ممبئی میں آدھ گھنٹہ کے لئے کسی میٹنگ میں ساتھ ہوا تھا۔ مجھے یہ بات یاد نہ تھی۔ مراری باپو نے اس کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کے بعد ممبئی کے مراٹھی اخبار میں چھپا کہ مراری باپو مولانا صاحب کے ساتھ حج کے لئے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف میرے بارہ میں وہاں کے اردو اخبار میں چھپا کہ مولانا صاحب مراری باپو کے ساتھ گنگا اشنان کے لئے جانے والے ہیں ۔ اخباروں کی اسی الٹی خبر رسانی نے موجودہ زمانہ میں سارا معاملہ بگاڑ رکھا ہے۔ اہل مغرب کے متعلق سمجھا جاتا ہے کہ انہوں نے انسانیت کو بے عقلی کے دور سے نکال کر عقل کے دور میں پہنچایا ہے ۔ مگر یہ ایک فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ ایک مغربی مفکر کی یہاں تقریر ہوئی ۔ اس نے اس کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ ساری علمی ترقیوں کے با وجود آج بھی کائنات کی سوالات کا کوئی عقلی جواب ہمارے پاس نہیں ہے۔ اس نے بتایا کہ ایک بڑے سائنٹسٹ سے پوچھا گیا کہ درخت ہرے کیوں ہیں (Why the trees are green) وہ کہہ سکتا تھا کہ کلوروفل کی وجہ سے۔ مگر پھر سوال ہو گا کہ کلوروفل میں یہ صفت کیسے ہے، اور اس قسم کے ہزاروں سوالات جن کا کوئی جواب سائنس داں کے پاس نہیں۔ چنانچہ اس نے کہا کہ درخت ہرے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues