Trees are green because they are green.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۳۵
طرح پاکستان کے ہندو اگر پاکستان میں اپنا علیحدہ تشخص قائم کرنے کی کوشش کریں تو وہاں کے مسلمان اس کو گوارا کرنے کے لئے تیار نہیں۔ مگر یہی ہندو اور مسلمان جب باہر کے ملکوں میں جاتے ہیں تو وہاں ان کی سب سے بڑی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ یہاں اپنے علیحدہ تشخص کو باقی رکھ سکیں اس تضاد کے ساتھ کسی کام میں کامیابی حاصل کرنا نا ممکن نہیں۔
ورک شاپ میں ایک ہندو نے یہ سوال کیا کہ کیا کی گر و کو بھگوان کہا جا سکتا ہے۔ اس کا جواب یہ دیا گیا کہ گرو کو خود نہیں بولنا چاہئے کہ میں بھگوان ہوں۔ مگر مشتیوں کو یہی سمجھنا چاہئے کہ گرو وہو ہے وہی بھگوان ہے، بلکہ گرو و بھگوان سے بھی بڑھ کر ہے۔ کیوں کہ گرو کے بغیر بھگوان کو پانا ممکن نہیں اس پر بعد کو شری رام پاپانے مجھ سے سوال کیا کہ کیا منش بھگوان ہو سکتا ہے۔ بھگوان والی یا واکیا منش میں آسکتی ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں ایسا نہیں مانا گیا ہے۔ اسلام میں خدا خدا ہے، اور انسان انسان۔ مزید یہ کہ اسلام کے مطابق، خدا کو پانے کے لئے کسی درمیانی واسطہ کی ضرورت نہیں۔ ۳ اگست کی شام کو حسب معمول ورک شاپ تھی۔ یہ ایک مشترک ورک شاپ تھی جس میں پانچ "سنت" سوالات کا جواب دینے کے لئے بٹھائے گئے تھے۔ ان میں سے ایک میں بھی تھا۔ اسلام کے بارہ میں جو سوالات آئے ان کا جواب میں نے دیا۔ مگر یہ سوالات زیادہ تر غلط فہمی کی نوعیت کے تھے۔ مثلاً ایک صاحب نے کہا کہ مکہ کے کعبہ میں جب شیولنگ موجود ہے تو ہندوؤں اور مسلمانوں میں یہ اختلافات کیوں پائے جاتے ہیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ ہم نے سنا ہے کہ قرآن میں لکھا ہوا ہے کہ گائے کی پو جا کرو۔ میں نے کہا کہ یہ سب بالکل بے بنیاد باتیں ہیں۔ ان کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ایک سوال عید الاضحیٰ کے تیوہار کے بارہ میں تھا، اس کی میں نے وضاحت کی اور بتایا کہ عید الاضحیٰ کا مقصد کیا ہے۔
یہ ورک شاپ ہوٹل کے وسیع لان میں رکھی گئی تھی۔ ہم لوگ وہاں پہنچے تو چھوٹے بچے مل کر گیت گار ہے تھے۔ اس کا ایک شعر یہ تھا :
ہند دیش کے نواسی سبھی جان ایک ہے رنگ روپ دیش بھاشا چاہے ایک ہے ہند و دھرم سے متعلق سوال کا جواب دینے کے لئے کئی لوگ موجود تھے ۔ شری رمیش بھائی اوزا، سوامی چیدانند، ڈاکٹر ایل ایم سنگھوی، ڈاکٹر کے ایل بیشاگہری راؤ۔ ۳۵ الرسائل جولائی ۱۹۹۶
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues