Don't try to understand me. Just love me.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶
لندن میں مقیم ایک ہندو نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ہندو لوگ ہندو دھرم کو چھوڑ کر مسلمان یا عیسائی بن جاتے ہیں۔ کیا ہمارے دھرم میں کوئی خرابی ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ ہندو دھرم میں اتنے زیادہ خدا کیوں ہیں، جب کہ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ سچائی صرف ایک ہے۔ ایک سوال یہ تھا کہ کہا جاتا ہے کہ گرو کا درجہ بھگوان سے بھی زیادہ ہے، ایسا کیوں۔ ایک تعلیم یافتہ ہندو نے سوال کیا کہ ہندوازم کی تعریف کیا ہے۔ ڈاکٹر سیتا گری راؤ (ایڈیٹر انسائیکلوپیڈیا آف ہندوازم) نے مہاتما گاندھی کی زبان میں جواب دیا کہ ہندوازم پر امن طور پر سچائی کی تلاش ہے:
Hinduism is a search for truth through non-violent means. شری رتیش بھائی اور ان نے ایک سوال کے جواب میں جو بات کہی وہ شاید ان مذاہب سے متعلق تمام سوالات پر چسپاں ہوتی ہے۔ ایک ہندو نوجوان نے سوال کیا کہ مہابھارت کے اندر بھگوان کرشن دھوکا دیتے ہیں۔ اور دوسری غیر اخلاقی باتیں کرتے ہیں۔ پھر وہ کیسے بھگوان ہیں۔ شری رتیش بھائی اور ان نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ عقل سے اس کا جواب دینا بہت مشکل ہے۔ ایک شخص نے شری کرشن کی طرف سے کہا ہے، اسی کو یہاں میں دہراؤں گا_ مجھ کو سمجھنے کی کوشش نہ کرو، بس مجھ سے پریم کرو:
Don't try to understand me. Just love me.
۴ اگست کی صبح کو حسب معمول ہوٹل سے جلسہ گاہ (راونڈ وڈ پارک) کے لئے روانہ ہوا ۔ ہماری کار میں دو پروفیسر بیٹھے ہوئے تھے۔ ایک ڈاکٹر مشیشا گری راؤ اور دوسرے صاحب جو کار کو چلا رہے تھے۔ صاحب کار نے کہا کہ آجکل میں ایک مغربی مصنف کی کتاب پڑھ رہا ہوں۔ اس کا نام ہے مسرت کا شہر (City of Joy) ۔ انڈیا کے تذکرہ کے تحت اس میں بہت بتایا گیا ہے کہ دیوالی ہندوؤں کے لئے جوئے کا تیوہار ہے۔ دیوالی میں ہندو بڑے پیمانے پر گیمبلنگ کرتے ہیں۔ یہ بات انھوں نے تنقیدی انداز میں کہی۔ اس کا دفاع کرتے ہوئے ڈاکٹر راؤ نے کہا کہ گیمبلنگ تو زندگی کا حصہ ہے۔ آپ کی میریج بھی تو گیمبلنگ ہے۔ میں نے کہا کہ میریج گیمبلنگ نہیں ہے، البتہ وہ رسک ہے، اور رسک بلاشبہ زندگی کا ایک حصہ ہے۔ صاحب کار نے میری بات سے اتفاق کیا۔ ڈاکٹر راؤ جو زیر ترتیب انسائیکلوپیڈیا آف ہندوازم کے چیف ایڈیٹر ہیں، انھوں نے کہا کہ ہندوازم اتنا پیچیدہ ہے
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues