Al-Risala · July 1996 · page 34

Don't try to understand me. Just love me.

الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۳۴

کہ کوئی بھی بات جو آپ ہندو ازم کی طرف منسوب کریں اس کی فوراً کوئی تردید کی جا سکتی ہے: روایتی طریقہ کے مطابق آج بھی کارروائی شروع ہوئی۔ پہلے تین صاحبان نے تقریر کی: پنڈت وتج رنگایا (بدھسٹ)، سرسگمٹڈ اسٹمبرگ (یہودی)، ریورنڈ مارکس (عیسائی)۔ تینوں تقریروں کے بعد بھارتیہ ویدیا بھون کے چیئرمین کھڑے ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ تینوں مقررین نے جو بات کہی عین وہی ہندوا سکرپچر میں بھی ہے۔ دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں:

اس کے بعد حسب معمول مراری با پو کی کتھا شروع ہوئی۔ میں نے دیکھا کہ وہ رامائن کے قصیدوں کی خوبصورت توجیہہ میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ اس کی مثالیں ان کے ہر بیان میں کثرت سے ملتی ہیں۔ مثلاً رامائن کے مطابق، سیتا کو راون چرا کر لنکا لے گیا۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھلا سیتا کو کوئی چرا سکتا ہے ۔ سیتا چرانی نہیں گئیں۔ وہ رام کی رضا مندی سے لنکا کو پوتر کرنے کے لئے ماں کے روپ میں لنکا گئی تھیں۔ انھوں نے لنکا کو پا ترتا دیا۔ اسی طرح رام چرت مانس میں ہے کہ ہنو مان جی لنکا گئے تو انھوں نے دیکھا کہ وہاں ہر مکان مندر ہے۔ انھوں نے اس کی توجیہہ یہ کی کہ ہنو مان جس گھر میں جائیں وہ تو مندر ہی ہو جائے گا۔ اگر چہ یہ طے کرنا مشکل ہے کہ ان کی یہ توجیہات فی الواقع توجیہہ ہیں یا لطیفہ۔

درمیان میں وہ طرح طرح کے نکتے بیان کرتے رہتے ہیں۔ مثلاً ایک قصہ کے ذیل میں انھوں نے کہا: نہ بھوگ گناہ ہے، اور نہ بھاگنا ہے، کیول پر بھو (کرشن) میں بھگینا ہے۔ ایک قصہ کے ضمن میں انھوں نے کہا کہ ایک سجn نے مجھ سے پوچھا کہ با پو، آپ سورگ میں جائیں گے یا نرک میں۔ میں نے کہا کہ نہ ہم کو سورگ میں جانا ہے اور نہ ہم کو نرک میں جانا ہے۔ ہم کو بار بار سنسار (بھارت) میں جنم لینا ہے اور یہی رام کتھا کرنا ہے۔ اگر بھگوان نے ہم کو نرک میں ڈال دیا تو ہم بھگوان سے کہیں گے کہ ہم کو دوستا کہ دو کہ ہم یہاں بھی اپنی رام کتھا کرتے رہیں۔ رام کتھا وہ نہایت جوش اور مستی کے ساتھ کرتے ہیں۔ آج وہ چار گھنٹہ تک مسلسل کتھا کرتے رہے۔ مگر نہ وہ تھکے اور نہ ۲۵ ہزار کا مجمع اکتایا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues

Printed page