Because it is between A/C.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۴۱
کسی سچے سادھو سے کرا دے جو تمہارے اندر کو خالی کر کے اس کو گیان سے بھر دے۔ ہندو دھرم میں گرودو کو مرکزی مقام حاصل ہے۔ عجیب بات ہے کہ عین یہی تصور اب مسلمانوں میں بھی پوری طرح آگیا ہے۔ مسلمانوں نے بھی کچھ ”بڑے“ فرض کر لئے ہیں۔ ان کا سارا مذہب انہیں انسانی بڑوں کے گر د گھومتا ہے۔ خدا مرکزی مذہب نہ ہندوئوں کے یہاں پایا جاتا ہے اور نہ موجودہ مسلمانوں کے یہاں۔
مراری با پو کی کتھا خوبصورت انداز میں ہند و ازم کا پرچار ہوتی ہے۔ اس کی ایک مثال لیجئے۔ اگست کی کتھا کے دوران انھوں نے کہا کہ آجکل کے بچے بہت ہوشیار ہیں۔ ایک باپ نے اپنے چھوٹے بچہ کو بتایا کہ کوئی چیز نا ممکن نہیں۔ نپولین نے کہا ہے کہ نامن کا لفظ صرف بیو قوفوں کی ڈکشنری میں پایا جاتا ہے۔ بیٹا یہ سن کر باتھ روم میں گیا۔ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں ٹوتھ پیسٹ کا ٹیوب تھا۔ اس نے ٹیوب دبا کر پیسٹ نکالا اور پھر باپ سے کہا کہ اگر ہر چیز ممکن ہے تو آپ اس پیسٹ کو دوبارہ ٹیوب میں ڈال دو۔ باپ نے ہار مان لی۔
انھوں نے بتایا کہ مجھ سے یہاں کے ایک بچہ نے کہا کہ با پو یہ بتائیے کہ بی (B) ٹھنڈا کیوں ہوتا ہے۔ مراری با پو نے بہت سوچا گر بی کے ٹھنڈا ہونے کی بات سمجھ میں نہ آئی۔ بچہ نے مسکراتے ہوئے ان سے کہا کہ بی اس لئے ٹھنڈا ہوتا ہے کہ وہ اے اور سی کے درمیان ہوتا ہے:
Because it is between A/C.
مراری با پو نے اس قصہ کو بتانے کے بعد کہا کہ آجکل کے بچے جو اتنے زیادہ ہوشیار ہو گئے ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے بار بار جنم لیا۔ بار بار وہ اس دنیا میں آکر اپنا گیان بڑھاتے رہے۔ مراری با پو نے اس طرح مذکورہ قصہ سے ہندو ازم کا آو آگمن کا نظریہ ثابت کیا۔ مگر انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ خود مراری با پو نے کیا بار بار جنم نہیں لیا ہے۔ بار بار جنم لینے والی ہوشیاری صرف برطانیہ کے لوگوں میں کیوں آئی ہے، جب کہ وہ اس عقیدہ کو مانتے ہی نہیں۔
ایک تعلیم یافتہ ہندو اپنی اہلیہ کے ساتھ آئے۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کا آشیرواد لینے کے لئے آئے ہیں۔ خاتون نے بتایا کہ ان کے گرو دہرہ دون کے پاس رہتے ہیں۔ انھوں نے برسوں تک جھاڑی میں رہ کر تپسیا کی ہے۔ اب ۱۲ برس سے وہ گئون میں ہیں۔ بہت پہنے ہوئے فقیر ہیں۔ ہندو قوم میں راورشاید ۱۴۔ الرسلہ جولائی ۱۹۹۶
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues