It is a far cry to London.
الرسالہ، جولائی ۱۹۹۶، صفحہ ۸
دبی سنگھ تیوتیا تھے ۔ اس کی دعوت پر صدر اسلامی مرکز نے بھی اس میں شرکت کی۔ اور اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ " پروچ بینچ گروپ " کو جاننا چاہئے کہ سیاسی اصلاح کے دو مرحلے ہیں۔ پہلا پولیٹیکل اوپیرنس ( سیاسی جاگ ) پیدا کرنا۔ دوسرا ہے پولیٹیکل ایکشن ( سیاسی استدام ) ، پہلا مرحلہ طے کئے بغیر دوسرے مرحلہ میں داخلہ نتیجہٴ سیاسی اصلاح نہیں ہے بلکہ سیاسی بگاڑ ہے۔
۵ راجیو گاندھی فاؤنڈیشن کے تحت نئی دہلی میں ۵ - ۶ فروری ۱۹۹۶ کو انڈیا ۔ پاکستان ڈائیلاگ ہوا۔ جس میں دونوں طرف سے اعلیٰ شخصیات شریک ہوئیں ۔ اس کی دعوت پر ۵ فروری کو صدر اسلامی مرکز نے اس میں شرکت کی اور دونوں ملکوں میں تعلقات کو بہتر بنانے پر اظہار خیال کیا۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ اس معاملہ میں ایک فارمولا درکار ہے ۔ اور وہ فارمولا پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں موجود ہے۔ وہ فارمولا یہ ہے کہ معاملہ کے سیاسی پہلو کو اس کے غیر سیاسی پہلو سے الگ کر دیا جائے ۔ سیاسی پہلو کو انتظار کے خانہ میں ڈال کر یہ کیا جائے کہ دونوں ملکوں کے درمیان آمدورفت کو بڑھایا جائے۔ تجارت کھول دی جائے ۔ تعلیم کے لئے دونوں طرف آنا جانا شروع کر دیا جائے ۔ اس سلسلہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی سے مثالیں دیکھ اس کو واضح کیا گیا۔
۶ آکاش وانی نئی دہلی ( ہندی وارتا ) سے ۱۹ فروری ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کی ایک تقریر نشر کی گئی۔ اس کا عنوان تھا : عید : میل ملاپ کا تیوہار ۔ ۷ دہلی کے ہندی میگزین " کرنٹ ادیوگ کے سب ایڈیٹر راکیش کھتر نے ۲۲ فروری ۱۹۹۶ کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا ۔ سوالات کا تعلق زیادہ تر ملکی مسائل سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں کہا گیا کہ ملکی مسائل کی جڑ یہ ہے کہ ہمارے یہاں میں تعلیم عام نہ ہوسکی ۔ اچھے تعلیم یافتہ ابھی تک ۱۰ فیصد بھی نہیں ہیں ۔ جب تک تعلیم عام نہیں ہوگی اس وقت تک محض وقتی تدبیروں سے کوئی مسئلہ حل ہونے والا نہیں۔
۸ دہلی کے قریب بھوندسی (Bhondsi) میں واقع چندر شیکھر آشرم میں ۲۴ - ۲۵ فروری
‹ Previous page Next page › Contents of July 1996 All issues