Al-Risala · August 1996 · page 8

اختلاف میں رحمت

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۸

اختلاف میں رحمت

ایک حدیث ہے کہ : (اختلاف امتی رحمۃ میری امت کا اختلاف رحمت ہے)

محقق علماء اس کو مستند احادیث میں شمار نہیں کرتے۔ یہ بات بجائے خود درست ہو سکتی ہے، مگر دوسری ناقابل انکار حقیقت یہ ہے کہ قرآن اور حدیث کا پورا ذخیرہ جو ہمارے پاس موجود ہے، اس میں خود علمائے امت نے بے شمار اختلافات کیے ہیں۔ قرآن کی تفسیر عین اختلافات سے بھری ہوئی ہیں، اسی طرح احادیث کی شروح کا یہ حال ہے کہ شاید کوئی بھی حدیث ایسی نہیں جس کی تشریح میں اختلاف موجود نہ ہو ۔

سوال یہ ہے کہ یہ اختلافات کیوں۔ اور یہ کہ یہ اختلاف رحمت تھایا زحمت۔ قرآن ایسی ریاضیاتی زبان میں اتر سکتا تھا کہ اس کی تفسیر و تاویل میں کسی قسم کے اختلاف کی سرے سے گنجائش ہی نہ ہو۔ اسی طرح حدیثوں میں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے الفاظ اختیار کر سکتے تھے جو دو اور دو چار کی مانند ہوں، اور اس کا امکان ہی نہ ہو کہ ان کی شرح میں کوئی شخص اختلاف کا پہلو نکالے۔ اصل یہ ہے کہ اختلاف کوئی غیر مطلوب چیز نہیں، بلکہ وہ عین مطلوب ہے۔ اسی اختلاف کی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ لوگ قرآن و حدیث میں زیادہ سے زیادہ غور و فکر کریں۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ اسلام ان کے لیے کوئی جامد چیز نہ ہو بلکہ وہ ان کے لیے خود دریافت کردہ حقیقت بن جائے۔ اسی بنا پر یہ ممکن ہوا کہ لوگوں کے اندر ذہنی سرگرمیاں جاری ہوں اور آخر کار ہر ایک مومن کو تخلیقی فکر کا حامل انسان بنا دیں۔

الزام تراشی اور عیب جوئی ایک جرم ہے۔ بلکہ وہ کینہ پن ہے جو بلا شبہ سب سے بری اخلاقی صفت ہے۔ مگر علیٰ اختلاف جو سنجیدہ غور و فکر سے ابھرتا ہے، وہ تو ایک نعمت ہے اور انسانیت کی ترقی کے لیے لازمی شرط کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں تک کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ جو سماج اختلاف سے خالی ہو جائے وہ ترقی سے بھی خالی ہو جائے گا۔

انسان کا ذہن ایک بند خزانہ ہے۔ اس بند خزانہ کو جو چیز کھولتی ہے وہ یہی اختلاف ہے۔ اختلاف رائے سے ذہن ترقی کرتا ہے، یہاں تک کہ ایک انسان سپر انسان بن جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page