اجتہادی کوتاہی کے نتائج
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۶
داخلہ سمجھا جیسا سیاسی داخلہ اس سے پہلے بار بار مسلم دنیا میں پیش آیا تھا۔ وہ اپنے روایتی ذہن کے تحت اس کے سوا کچھ اور نہ سوچ سکے کہ ماضی کے مماثل واقعات کی طرح اس کو بھی محض سیاسی جارحیت کا ایک واقعہ سمجھیں، اور دوبارہ اسی انداز کی دفاعی تدبیر کریں جو اس سے پہلے اس طرح کے مواقع پر اختیار کی گئی تھی۔
ہمارے علماء اگر زمانہ کی تبدیلیوں سے واقف ہوتے اور مجتہدانہ بصیرت سے کام لے سکتے تو وہ کہتے کہ مغربی قوموں کا پیدا کردہ مسئلہ سادہ معنوں میں صرف سیاسی جارحیت (political aggression) کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک علمی اقدام (scientific advancement) کا مسئلہ ہے۔ اگر وہ بروقت اس راز کو جان لیتے تو وہ مسلمانوں سے کہتے کہ وقتی طور پر تم ان کی سیاسی بالادستی کو گوارہ کرلو، اور جن علوم کی طاقت سے وہ آگے بڑھ رہے ہیں، ان کو زیادہ سے زیادہ سیکھنے کی کوشش کرو۔
یہ ٹھیک وہی تدبیر ہوتی جس کو اس سے پہلے خود ہمارے مقابلے میں یورپ کی صلیبی قوموں نے اختیار کیا تھا۔ انھوں نے مسلمانوں کے سیاسی غلبہ کو قبول کر کے ان کے علوم کو سیکھنا شروع کر دیا۔ یہاں تک کہ ان میں اضافہ کر کے خود تاریخ کے رخ کو بدل دیا۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی قوموں کا مسئلہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے ٹکرانے کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ سیکھنے اور تیاری کرنے کا مسئلہ تھا۔ مگر مجتہدانہ صلاحیت سے محرومی کی بنا پر ہمارے علماء مسلمانوں کو یہ رہنمائی دینے میں ناکام رہے۔ اگر ہمارے رہنما بروقت اس اجتہادی بصیرت کا ثبوت دیتے تو آج مسلم دنیا کی تاریخ اسی طرح عظمت کی تاریخ ہوتی جس طرح ماضی میں صلیبیوں کی تاریخ دوبارہ عظمت کی تاریخ بنی۔ اور جس کا ایک جدید نمونہ ہمیں جاپان کی صورت میں نظر آتا ہے۔
دوسری عالمی جنگ کے بعد 1945 میں جاپان پر امریکہ کی سیاسی اور فوجی برتری قائم ہو گئی۔ مگر جاپان کے دانشور طبقہ نے فوری طور پر یہ جان لیا کہ امریکہ کی فوجی اور سیاسی بالادستی کسی "سازش" کا نتیجہ نہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ جاپان کے مقابلہ میں امریکہ نے سائنس اور ٹکنالوجی میں برتری حاصل کرلی ہے اور جاپان اس اعتبار سے امریکہ سے پیچھے چلا گیا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس نے امریکہ کو یہ موقع دیا کہ وہ جاپان کو شکست دے کر اس پر قابض ہو جائے ۔ جاپان نے اس فکری رہنمائی کی روشنی
‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues