اجتہادی کوتاہی کے نتائج
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۷
میں امریکہ کی سیاسی اور فوجی بالا دستی کو نظر انداز کیا اور اپنی ساری توجہ سائنسی تعلیم پر لگا دی۔ اس کا نتیجہ حیرت ناک طور پر جاپان کی موافقت میں نکلا ـــــــــ نصف صدی سے بھی کم مدت میں مفتوح نے فاتح کے اوپر غلبہ حاصل کر لیا۔
انیسویں صدی کے علماء اگر مجتہدانہ بصیرت کے حامل ہوتے تو وہ اپنے لحاظ سے اسی قسم کا کام کرتے جو صلیبیوں اور جاپانیوں نے اپنے لحاظ سے کیا۔ وہ جہاد کا فتویٰ دینے کے بجائے علم کا فتویٰ دیتے ۔ وہ جنگی تیاری کے بجائے قوم کو علمی تیاریوں کی طرف متوجہ کرتے ۔ وہ دین کے ضروری تحفظ کے ساتھ تمام مسلم قوموں کو علوم جدیدہ کے حصول میں لگا دیتے ۔ اس کے بعد جو نتیجہ نکلتا اس کے بارے میں کسی فرضی قیاس کی ضرورت نہیں ۔ اولاً یورپ اور پھر جاپان کی صورت میں اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے اس معاملہ میں واضح تاریخی مثال قائم کر دی ہے اور کوئی بھی صاحب نظر آدمی اس تاریخ کا مطالعہ کرکے اس معاملہ کو بخوبی طور پر سمجھ سکتا ہے۔
اجتہاد کے سلسلہ میں ایک قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ کسی مخصوص صورتِ حال سے نمٹنے کے لیے اگر کوئی ایسی عملی تجویز پیش کی جائے جو ایک طرف مثبت نتیجہ پیدا کرنے والی ہو اور دوسری طرف اسلام کے روح و مزاج سے بھی ہم آہنگ یا غیر متصادم ہو تو اسے ایک مجتہدانہ رائے قرار دیا جائے گا۔ خواہ اس کو پیش کرنے والا کافر اور اسلام کا منکر ہی کیوں نہ ہو۔ نیز ایسی رائے کو قبول کرنا اہل اسلام کے لیے درست بلکہ وقت کا عین مطلوب ہوگا۔ یہی بات شاطبی نے ان لفظوں میں لکھی ہے : "وقد أَجَاز النظار وقوع الاجتهاد في الشريعة من الكافر لمنكر لوجود الصانع والرسالة والشريعة ، اذ كان الاجتهاد انما ينبنى على مقدمات تفرض صحتها كانت كذلك في نفس الأمر أولاً " ( الموافقات ، ۴/ ۵۸ )
اسی لیے شعوری یا غیر شعوری طور پر ہندوستان کے اکابر علماء اور مسلم دنیا کے علماء کی اکثریت نے خلافت تحریک کے زمانے میں تشدد کے مقابلہ عدم تشدد کی پالیسی کو عملاً اختیار کیا جو ایک غیر مسلم کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔
یہ بات عین فطری ہے۔ کیوں کہ اجتہاد کا تعلق امورِ آخرت سے نہیں ہے بلکہ امورِ دنیا سے ہے۔ اور امورِ دنیا میں کسی بھی شخص سے استفادہ کیا جاسکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues