تقلید کے نقصانات
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۸
تقلید کے نقصانات
اجتہاد کا بدل تقلید ہے۔ جہاں اجتہاد کا عمل بند ہو گا وہاں تقلید کا عمل جاری ہو جائے گا، اور تقلید انسانی صلاحیتوں کے لیے موت کا حکم رکھتی ہے۔ موجودہ زمانہ میں مسلمان جس الم ناک صورتِ حال سے دوچار ہیں اس کی کوئی ایک وجہ بتا نا ہو تو بلا شبہ وہ یہی ہو گی کہ اجتہاد کا دروازہ بند کر کے امت کو تقلید کے اندھیرے میں ڈال دیا گیا۔
اجتہاد کا عمل رکنے سے جو خرابیاں آتی ہیں ان میں سے ایک ہلاکت خیز خرابی یہ ہے کہ مسلمان خود اپنے دین کے نئے امکانات کو دریافت کرنے سے محروم ہو جاتے ہیں۔ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ہم کو جو دین دیا گیا ہے وہ ایک ابدی دین ہے۔ اس لیے فطری طور پر ایسا ہے کہ وہ ہر آنے والے دور کی امکانات کو سموئے ہوئے ہے۔ ان مخفی امکانات کو مجتہدانہ بصیرت ہی کے ذریعہ دریافت کیا جا سکتا ہے۔ لیکن جب اجتہاد کو ممنوع ٹھہراکر تقلید کو رائج کر دیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس واحد دروازہ ہی کو بند کر دیا گیا جس کے ذریعہ مسلمان اپنے دین کے نئے نئے امکانات تک پہنچ سکتے تھے۔
قرآن میں بہت سی آیتیں استقبال کے صیغہ میں ہیں۔ مثال کے طور پر تمام انسانوں کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم (آئندہ) ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے نفسوں میں بھی، یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے (حم السجدہ ۵۳) اسی طرح حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبریل آئے اور یہ خبر دی کہ آئندہ فتنے اٹھیں گے ۔ آپ نے جبریل سے پوچھا کہ اس سے نکلنے کا راستہ کیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ خدا کی کتاب۔ اس میں آپ سے پہلے کی خبریں ہیں اور آپ کے بعد جو کچھ پیش آئے گا اس کی بھی خبریں ہیں (فيه نبأما قبلكم ونبأ ما هو كائن بعدكم)، اور یہ کہ قرآن کے عجائب ختم نہ ہوں گے ( ولا تنقضى عجائبه )
حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا کہ قرآن میں اللہ نے اولین اور آخرین کے علم کو جمع کر دیا ہے اور جو ہوا اور جو ہو گا ان سب کا علم بھی (جمع الله في هذا الكتاب علم الاولين والآخرين وعلم ماكان وعلم مايكون) جامع الاصول فی احادیث الرسول ۴۱۴/۸
‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues