Al-Risala · August 1996 · page 27

حرّیتِ فکر

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۲۷

حرّیتِ فکر

مدینہ میں غلام طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایک مرد اور ایک عورت رہتے تھے۔ مرد کا نام مغیث اور عورت کا نام بریرہ تھا ، انھوں نے اسلام قبول کر لیا۔ ایک عرصہ کے بعد خاتون آزاد ہو گئیں۔ آزادی کے بعد از روئے قاعدہ انھیں اختیار مل گیا کہ خواہ وہ سابق شوہر کے ساتھ رہیں یا اس سے علیحدگی اختیار کر لیں۔ بریرہ نے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔ مگر مغیث کو اس خاتون سے بہت زیادہ لگاؤ تھا۔ اس لیے وہ چاہتے تھے کہ بریرہ اپنے فیصلے کو بدل دیں اور ان کے ساتھ رہنے پر راضی ہو جائیں۔

یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ حدیث کی کتابوں میں اس کی کافی تفصیلات آئی ہیں۔ حتی کہ بریرہ اور مغیث پر مستقل کتابیں لکھی گئی ہیں۔ خلاصہ یہ کہ آخر کار ان کا معاملہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش ہوا۔ اس وقت حالت یہ تھی کہ بریرہ آگے آگے تھیں اور مغیث، جو سیاہ فام تھے، ان کے پیچھے اس طرح چل رہے تھے کہ آنسوؤں سے ان کی داڑھی کے بال تر ہو گئے تھے۔ اس کے بعد ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں :

فقال النبی صلی اللہ علیہ وسلم لو راجعته۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ اچھا ہے کہ تم اس قالت يا رسول اللہ تأمرنی ۔ قال إنما کی طرف رجوع کر لو۔ بریرہ نے کہا کہ اے خدا کے أنا اشفع - فقالت لا حاجة لي فيه۔ رسول، کیا آپ مجھے اس کا حکم دیتے ہیں۔ آپ نے (فتح الباری بشرح صحيح البخاری ۳۱۶/۹) فرمایا کہ میں صرف سفارش کر رہا ہوں۔ بریرہ نے جواب دیا کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔

یہ اس بات کی ایک انتہائی اعلیٰ اور آخری مثال ہے کہ اسلام میں عورت اور مرد کو کتنی زیادہ آزادی حاصل ہے۔ یہ آزادی کوئی سرکشی نہیں ہے۔ یہ انسانی فطرت کی رعایت ہے۔ انسان کی شخصیت کا ارتقاء صرف آزادی کے ماحول میں ہو سکتا ہے۔ جس طرح ایک درخت کھلی فضا ہی میں پروان چڑھتا ہے، ٹھیک اسی طرح ایک انسان کا ذہنی اور روحانی وجود صرف اسی وقت بھر پور طور پر نشو و نما پا تا ہے جب کہ اس کو کامل فکری آزادی ملی ہوئی ہو۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page