تقلید کے نقصانات
الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۳۹
جب خدا کے بھیجے ہوئے دین میں قیامت تک کی باتیں چھپا دی گئی ہیں تو لازم ہے کہ وہ ہر دور میں ظاہر ہوتی رہیں ۔ مگر یہ کہنا شاید مبالغہ نہیں ہوگا کہ پچھلے چھ سو سال سے مسلم دنیا کوئی بھی ایسی کتاب پیش نہ کر سکی جس کو تخلیقی عمل (creative works) کہا جا سکے کیسی عجیب بات ہے کہ شاہ ولی اللہ دہلوی اجتہاد کے مسئلہ پر کتاب لکھتے ہیں اور اس کا نام خالص تقلیدی انداز میں عقد الجید في احکام الاجتهاد والتقلید رکھتے ہیں۔ غالباً آخری تخلیقی کتاب جو مسلم دنیا پیش کر سکی وہ مقدمہ ابن خلدون ہے ۔ اس کے بعد پچھلے چھ سو سال کے اندر جو کتابیں لکھی یا چھاپی گئی ہیں وہ تقریباً سب کی سب روایتی اور تقلیدی انداز میں ہیں ۔ نہ کہ تخلیقی اور اجتہادی انداز میں ۔ مثال سے اس معاملہ کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے ۔ جیسا کہ معلوم ہے ، موسیٰ کا ہم زمانہ مصری بادشاہ سمندر میں غرق کر دیا گیا تھا ۔ قرآن میں ہے کہ اللہ نے اس فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا _________ : "پس آج ہم تیرے بدن کو بچا لیں گے تا کہ تو اپنے بعد والوں کے لیے نشانی بنے ، اور بے شک بہت سے لوگ ہماری نشانیوں سے غافل رہتے ہیں ۔ " (یونس ۹۲) اس آیت میں ایک حتمی اعلان تھا کہ فرعون کا جسم معجزاتی طور پر محفوظ رکھا جائے گا، تا کہ اہل اسلام اس کو استعمال کر کے بعد کی انسانی نسلوں کے سامنے کتاب الہی کی صداقت کا اظہار کر سکیں ۔ یہ علمی خزانہ مصر کے اہرام میں محفوظ تھا۔ مگر عجیب بات ہے کہ مصری علماء صرف اتنا ہی جان سکے کہ یہ بلند اہرام لعنة الفراعنۃ کے حامل ہیں ۔ صدیوں پر صدیاں گزرتی چلی گئیں اور کسی بھی مسلم عالم کے لیے یہ ممکن نہ ہو سکا کہ وہ خدا کی اس چھپی ہوئی نشانی سے پردہ اٹھائے اور قرآن کی ایک ناقابل انکار صداقت کے طور پر اس کو دنیا کے سامنے پیش کرے ۔
سب سے پہلے ایک فرانسیسی اسکالر پروفیسر (Loret) نے ۱۸۹۸ میں فرعون کے اس محفوظ جسم کو اہرام کے اندر سے نکالا ۔ پھر اس ممی کیے ہوئے جسم کو لا کر قاہرہ کے میوزیم میں رکھا گیا۔ اس کے بعد پہلی بار ۸ جولائی ۱۹۰۷ء کو پروفیسر اسمتھ (Elliot Smith) نے اس جسم کے غلاف کو کھول کر اس کا مشاہدہ اور مطالعہ کیا اور پھر وہ کتاب لکھی جو حسب ذیل نام سے مشہور ہے :
The Royal Mummies (1912)
‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues