آزادی کی حد
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۴۰
قتادہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ابو بکر اور عمرؓ مکہ اور منی میں قصر کرکے دو رکعت نماز پڑھتے تھے۔ عثمانؓ نے بھی اپنی خلافت کے ابتدائی زمانہ میں ایسا ہی کیا۔ اس کے بعد عثمانؓ نے قصر نہیں کیا بلکہ چار رکعت نماز پڑھی۔ عبداللہ بن مسعودؓ کو یہ بات معلوم ہوئی تو انھوں نے انا للہ وانا الیہ راجعون پڑھا اور اس کو غلط بتایا۔ اس کے بعد وہ اٹھے اور چار رکعت نماز ادا کی۔ ان سے کہا گیا کہ چار رکعت نماز پر آپ نے انا للہ وانا الیہ راجعون کہا اور پھر خود بھی آپ نے خلیفہ کی پیروی میں چار رکعت نماز پڑھی۔ انھوں نے جواب دیا کہ خلاف کرنا زیادہ برا ہے (خلاف شی حیات اصحابہ ۲/۹) حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کی یہ مثال ایک اہم حقیقت کو بتاتی ہے۔ اور وہ ایک فرق ہے جس کو اس طرح کے اختلافی معاملہ میں ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ وہ فرق یہ ہے کہ اختلافی معاملہ میں بولنے کے وقت تو اصل معیار کو سامنے رکھا جائے گا۔ مگر عمل کرنے کے معاملہ میں عملی پہلوؤں کی رعایت کی جائے گی۔
آزادی ہر فرد کا ایک حق ہے۔ مگر ہر حق کے ساتھ کچھ ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ اسی طرح آزادی کے حق کے ساتھ بھی کچھ لازمی ذمہ داریاں وابستہ ہیں۔ ان میں سے ایک ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے اس حق کو استعمال کرنے سے پہلے بار بار یہ سوچے کہ اس کا بولنا نتیجہ کے اعتبار سے کیسا ثابت ہوگا وہ تعمیری نتیجہ پیدا کرے گا یا تخریبی نتیجہ۔
اسی طرح یہ بھی ایک ذمہ داری ہے کہ اجتماعی نظام میں اجتماعی فیصلہ کی پیروی کی جائے۔ جس آدمی کے ہاتھ میں اجتماعی معاملہ کا نظم نہ ہو، وہ زبانی طور پر اپنا اختلاف ظاہر کر سکتا ہے، مگر عملی اعتبار سے اس کو وہی کرنا چاہیے جو دوسرے لوگ کر رہے ہیں۔ اگر وہ ایسا نہ کرے تو اجتماعی اتحاد ٹوٹ جائے گا، اور اجتماعی اتحاد کا ٹوٹنا تمام برائیوں میں سب سے بڑی برائی ہے۔ حدیث میں ہے کہ علیکم بالسواد الاعظم (ابن ماجہ، کتاب الفتن) یعنی سواد اعظم کی پیروی کرو۔ اس حدیث کا مطلب بھی یہی ہے۔ یعنی جب فتنہ کی حالت ہو اور صورت حال پر تمہارا کنٹرول قائم نہ رہے تو تم قول کی حد تک حکیمانہ انداز میں حق کا اعلان کر سکتے ہو۔ مگر عمل کے معاملہ میں تمھیں مسلمانوں کے سواد اعظم کے ساتھ رہنا چاہیے۔ کیوں کہ ایسی حالت میں عملی اختلاف زیادہ بڑی برائی کا سبب بن جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues