Al-Risala · August 1996 · page 41

اختلافات کی توجیہہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۴۱

اختلافات کی توجیہہ

قرآن میں ارشاد ہوا ہے ــــ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے۔ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو وہ اس کے اندر بہت اختلاف پاتے (النصار ۸۲) اس سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ نے جو دین اسلام بھیجا ہے وہ ایک ایسا دین ہے جس میں کوئی اختلاف نہیں۔ یہی بات حدیث میں اس طرح کہی گئی ہے کہ میں نے تم کو ایک روشن دن پر چھوڑا ہے، اس کی راتیں بھی اس کے دنوں کی طرح ہیں (قد تركتكم علی مثل البیضاء لھا کنهارھا) ابن ماجہ، مستدرک مگر ایک شخص جب قرآن کی تفسیروں اور حدیث کی شرحوں کو پڑھتا ہے۔ جب وہ فقہ اور عقائد کی کتابوں کو دیکھتا ہے تو بظاہر بالکل برعکس تصویر دکھائی دیتی ہے۔ یہاں وہ اتنے زیادہ اختلافات دیکھتا ہے کہ شاید اسلام کی کوئی ایک تعلیم بھی نہیں جس میں علماء کے درمیان کثرت سے اختلاف نہ پایا جاتا ہو۔ یہاں دین اسلام بظاہر دین اختلاف معلوم ہونے لگتا ہے۔ ایک دارالعلوم کے شیخ الحدیث نے کہا کہ شوال کے مہینہ میں حدیث کے اسباق کی بسم اللہ ہوتی ہے اور رجب میں اس کی تہممت ہوتی ہے۔ ان دس مہینوں میں اسباق کا کوئی دن بھی ایسا نہیں گزرتا جس میں کم از کم بیس مرتبہ یہ نہ کہنا پڑتا ہو کہ اس مسئلہ میں فلاں امام کا یہ مذہب ہے اور فلاں کا یہ مختلف مذہب ہے۔ صحابہ کا یہ مذہب تھا، تابعین میں یہ اختلاف ہے اور یہ کہ رأینا والصواب و رای غیرنا خطا (ہماری رائے درست ہے اور دوسروں کی رائے خطا ہے) ایک بے اختلاف دین با اختلاف دین کیوں بن گیا۔ اور اس معاملہ کی اطمینان بخش توجیہہ کیا ہے۔ اس پر پچھلے ہزار برس کے دوران بہت لکھا گیا ہے اور بہت کچھ کہا گیا ہے۔ آج بھی اس کے بارہ میں کثرت سے مضامین اور کتابیں شائع کی جا رہی ہیں۔ یہ سوال ابتدائی طور پر صحابہ کے زمانہ ہی میں موجود تھا۔ تاہم باقاعدہ صورت میں تابعین اور تبع تابعین کے زمانہ میں نمایاں ہوا۔ جب حدیثیں اکٹھا کی گئیں تو معلوم ہوا کہ دور روایات میں کثرت سے اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اب لوگوں نے یہ سوال کرنا

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page