Al-Risala · August 1996 · page 42

اختلافات کی توجیہہ

الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۴۲

شروع کیا کہ کس روایت کی پیروی کریں اور کس روایت کی پیروی نہ کریں۔

اس وقت ابتدائی یہ نقطہ نظر اختیار کیا گیا کہ یہ مختلف روایتیں تو خود صحابہ سے مل رہی ہیں، اور صحابہ سب کے سب قابل تقلید ہیں۔ پھر ہم کیوں کر ایسا کہہ سکتے ہیں کہ اس صحابی کی روایت کو مانو اور اُس صحابی کی روایت کو نہ مانو۔

محمد بن عبدالرحمن الصیرفی کہتے ہیں کہ میں نے احمد بن حنبل سے پوچھا کہ کسی مسئلہ میں اصحابِ رسول مختلف ہوں تو کیا ہمارے لیے جائز ہے کہ ہم غور کر کے یہ فیصلہ کریں کہ ان میں سے درست قول کون سا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ رسول اللہ کے اصحاب کے درمیان ایسا غور و فکر کرنا جائز نہیں (لا یجوز النظر بین اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) الصیرفی کہتے ہیں کہ میں نے پوچھا کہ پھر کس کے قول پر عمل کیا جائے ۔ احمد بن حنبل نے کہا کہ ان میں سے جس کی بھی چاہو اتباع کر لو (تقلّد ایهم شئت) جامع بیان العلم وفضلہ، ابن عبدالبر ۸۴/۲ امام احمد بن حنبل کی یہ بات بجائے خود نہایت درست ہے۔ کیوں کہ ہم کسی صحابی کو صحیح اور کسی صحابی کو غلط نہیں کہہ سکتے۔ ہمارے لیے ہر صحابی قابل اتباع ہے۔ تاہم اس جواب میں دوسری بات کی علمی توجیہ موجود نہیں ہے کہ ایسا مسلک کیوں درست ہے۔

اس کے بعد دوسرا مسلک وہ ہے جس کو فقہا کی ایک تعداد نے اختیار کیا۔ مثلاً امام مالک سے پوچھا گیا کہ صحابہ کے اختلافات میں کیا کرنا چاہیے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ان میں کچھ نادر اور غلط ہیں اور کچھ درست ہیں، تو ان پر غور کر کے کسی کو اختیار کرو (خطا و صواب فانظر فی ذلک) جامع بیان العلم وفضلہ امام ابوحنیفہ نے اور زیادہ واضح طور پر یہی بات کہی۔ انھوں نے کہا کہ دونوں میں سے ایک قول خطا ہے۔ اور اس خطا کا گناہ معاف کر دیا گیا ہے (واحد القولین خطا والمأثم مرفوع موضوع) جامع بیان العلم وفضلہ یہ جواب بدایتہً درست نہیں ہے۔ کیوں کہ مختلف اقوال میں سے ہر قول جب کسی صحابی کی طرف سے ملا ہو تو ہم کو یہ حق نہیں کہ بطور خود ایک کو خطا اور دوسرے کو صواب کہیں صحابہ کے مختلف اقوال کے سلسلے میں ہم مجبور ہیں کہ ہر ایک کو صواب سمجھیں۔ ان کے درمیان

‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues

Printed page