اختلافات کی توجیہہ
الرسالہ، اگست ۱۹۹۶، صفحہ ۴۳
امتیاز قائم کرنا ہمارے لیے اپنی حد سے تجاوز کرنے کے ہم معنی ہوگا۔
اس معاملہ میں زیادہ گہرائی کے ساتھ غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ دین کے دو حصے ہیں۔ ایک اصول کا حصہ، اور دوسرے فروع اور جزئیات کا حصہ۔ مذکورہ تمام اختلافات فروع اور جزئیات سے تعلق رکھتے ہیں۔ جہاں تک اصول کا تعلق ہے، ان میں کوئی اختلاف نہیں۔ مثلاً پانچ وقتہ نماز یا نمازوں میں رکعات کی مختلف تعداد کے بارے میں تمام اہل اسلام متفق ہیں۔ البتہ آمین بالجہر اور آمین بالسر جیسے کثیر مسائل ہیں جن میں ان کے یہاں اختلافات پائے جاتے ہیں۔ اس تقسیم کو قرآن کی روشنی میں دیکھا جائے تو فیصلہ بہت آسان ہو جاتا ہے۔ قرآن میں ہے کہ تمام انبیا کو ایک ہی الدین (الشوری ۱۳) دیا گیا ہے۔ الدین سے مراد دین کے اصولی اور اساسی احکام ہیں۔ یہ اصولی اور اساسی احکام ابدی ہیں اور یکساں طور پر ہر پیغمبر کو دیے جاتے رہے ہیں۔ ان کے معاملہ میں ایک نبی اور دوسرے نبی کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ قرآن کے مطابق ، دین کا دوسرا حصہ وہ ہے جس کو شرعۃ اور منہاج (المائدہ ۴۸) کہا گیا ہے۔ یہ دوسرا حصہ مختلف پیغمبروں کے یہاں مختلف رہا ہے۔
یہی فرق اسلام میں داخلی طور پر بھی پایا جاتا ہے۔ گویا قرآن اور اسی طرح حدیث کے اتفاقی اجزا کی حیثیت الدین کی ہے۔ اور اس کے بعد جو اختلافی اجزا ہیں وہ اس حصہ دین سے متعلق ہیں جن کو قرآن میں شرعۃ اور منہاج کہا گیا ہے۔
اس سے معلوم ہوا کہ خود شارع کی اپنی اسکیم کے مطابق ، دین کے ایک حصہ میں توحّد مطلوب ہے اور دین کے دوسرے حصہ میں تننوع اور تو توسیع۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ اس کو اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ اساسات دین (مثلاً اخلاص للہ) کی حیثیت ایسپرٹ کی ہے اور فقہی احکام کی حیثیت فارم کی۔ اور یہ فطرت کا قانون ہے کہ ایسپرٹ میں ہمیشہ یکسانیت پائی جاتی ہے۔ مگر فارم میں کبھی یکسانیت نہیں ہوتی اور نہ ہوسکتی۔ مثلاً مکان کی اصل حیثیت یہ ہے کہ وہ شلٹر کا کام دے۔ اس اعتبار سے ہر مکان یکساں ہوگا۔ مگر فارم کے اعتبار سے ہر مکان یکساں نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح دین اپنی ایسپرٹ کے اعتبار سے ہمیشہ ایک رہتا ہے۔ مگر فارم کے اعتبار سے اس میں تنوع ہوتا ہے اور یہ تننوع کبھی ختم ہونے والا نہیں۔ صحابہ کے اختلاف کی اصل حقیقت یہی ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 1996 All issues