Al-Risala · January 1996 · page 40

تقلید کے نقصانات

الرسالہ، جنوری ۱۹۹۶، صفحہ ۴۰

یہ سب کچھ ہو جانے کے بعد بھی پہلا شخص جس نے اس دریافت شدہ مواد کو صداقت اسلام کے لیے استعمال کیا وہ صرف ایک فرانسیسی عالم ڈاکٹر موریس بکائی تھا ۔ وہ جون ۱۹۰۵ میں قاہرہ گیا۔ وہاں اس نے براہ راست طور پر میوزیم میں اس کا مطالعہ کیا۔ حتیٰ کہ اس معاملے کی کامل تحقیق کے لیے اس نے عربی زبان سیکھی، تاکہ قرآن میں موسیٰ اور فرعون کے قصہ کو براہ راست مطالعہ سے سمجھ سکے ۔ ان سب کے بعد اس نے اپنی شاہکار تصنیف فرانسیسی زبان میں لکھی۔ جس کا ترجمہ اب مختلف عالمی زبانوں میں شائع ہو چکا ہے ۔

یہی وجہ ہے کہ قرآن کی پیشین گوئی کو واقعاتی طور پر ثابت کرنے والا صرف ایک فرانسیسی عالم تھا۔ اسی کو یہ توفیق ملی کہ وہ اس کی بابت یہ پر اہتزاز بیان (thrilling statement) تاریخ میں ثبت کر سکے کہ وہ لوگ جو مقدس کتاب کی سچائی کے لیے جدید ثبوت چاہتے ہیں وہ قاہرہ کے مصری میوزیم میں شاہی ممیوں کے کمرہ کو دیکھیں ۔ وہاں وہ قرآن کی ان آیتوں کی شاندار تصدیق پالیں گے جوکہ فرعون کے جسم سے متعلق ہیں :

Those who seek among modern data for proof of the veracity of the Holy Scriptures will find a magnificent illustration of the verses of the Quran dealing with the Pharaoh's body by visiting the Royal Mummies Room of the Egyptian Museum, Cairo (p. 241)

موجودہ زمانہ میں جب مہلک جنگی ہتھیار وجود میں آئے تو ساری دنیا میں جنگ کو برا سمجھا جانے لگا ۔ تمام سنجیدہ لوگوں کی نظر میں جنگ ایک ناپسندیدہ چیز بن گئی۔ کیوں کہ جدید ہتھیاروں کے بعد جنگ اب صرف تباہی کی چیز بن چکی تھی ۔

ایسے ماحول میں یہ کہا جانے لگا کہ اسلام اب نئے دور کے لیے غیر متعلق (irrelevant) ہو چکا ہے ۔ دور جدید میں وہ کوئی تعمیری رول ادا نہیں کر سکتا۔ کیوں کہ اسلام کا انحصار جنگی طاقت پر ہے، اور جنگی طاقت میں اب سرے سے کوئی تعمیری رول ادا کرنے کی صلاحیت ہی نہیں رہی۔ اس نئے ماحول میں ضرورت تھی کہ اسلام کی امن کی طاقت کو دلائل و شواہد سے واضح کیا جائے ۔ مگر عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانہ کے تمام مسلم ذہن صرف مدافعت کرنے میں مشغول رہے ۔ انھوں نے اسلامی جنگ کے قوانین پر موٹی موٹی کتابیں لکھ ڈالیں۔ پہلا شخص جس نے

‹ Previous page Next page › Contents of January 1996 All issues

Printed page