Al-Risala · September 1996 · page 6

زیادہ ثواب

الرسالہ، ستمبر ۱۹۹۶، صفحہ ۶

زیادہ ثواب

قرآن کی سورہ النور میں پیش آنے والے اس واقعہ کا ذکر ہے جو اسلام کی تاریخ میں افک کے نام سے مشہور ہے۔ اس موقع پر مدینہ کے کچھ شرپسندوں نے حضرت عائشہ صدیقہ پر ایک جھوٹا الزام لگایا تھا۔ اس کے نتیجہ میں پورے شہر میں ایک ہنگامہ کھڑا ہو گیا۔ وقتی طور پر مسلمانوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ اس کا تذکرہ کرتے ہوئے قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ تم اس کو اپنے حق میں برا نہ سمجھو، بلکہ وہ تمہارے لیے بہتر ہے (لا تحسبوه شرا لكم بل هو خير لكم، النور 11 اس قسم کا فتنہ یا اس قسم کی شر انگیزی کیوں اہل ایمان کے لیے خیر ثابت ہوتی ہے، اس کے بہت سے پہلو ہیں۔ تاہم اس کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ ایسا ہر فتنہ سچے مومن کو یہ موقع دیتا ہے کہ وہ اس اعلیٰ ایمانی عمل کا ثبوت دے جس کو قرآن میں ظن خیر کہا گیا ہے (النور (۱۲) افواہوں کی آندھی میں حسن ظن کا طریقہ اختیار کر کے وہ مزید ثواب کمائے، وہ زیادہ بڑا عمل کر کے اللہ کی نظر میں زیادہ مقبول بندہ بن جائے ۔

مثلاً الزام تراشی کی اس مہم میں جو لوگ شعوری یا غیر شعوری طور پر شریک ہو گئے ان میں سے ایک حسان بن ثابت انصاری بھی تھے۔ چنانچہ بعد کو جب متحقق ہو گیا کہ یہ پورا قصہ سراسر جھوٹ پر مبنی تھا تو حسان بن ثابت کو ان کی غلطی پر کوڑے مارے گئے۔ مگر جہاں تک حضرت عائشہ کا تعلق ہے وہ کبھی حسان بن ثابت سے متنفر نہیں ہوئیں۔ روایات میں آتا ہے کہ وہ اس کو سخت ناپسند کرتی تھیں کہ ان کے سامنے حسان کو برا کہا جائے (قال عروة وكانت عائشة تنكره أن يُسب عندھا حسان) وہ حسان کے اشعار پڑھ کر کہا کرتی تھیں کہ حسان وہ ہیں جنھوں نے اسلام کی مدافعت میں ایسے اور ایسے اشعار کہے ہیں (التفسير المظهری ۲۷۳/۶)

حضرت عائشہ کا یہ قول شرافت اور بلند اخلاقی کی نہایت عظیم مثال ہے۔ یہی وہ کلمہ ہے جس کی بابت حدیث میں آیا ہے کہ ایسا ایک کلمہ آدمی کو جنت میں پہچانے کے لیے کافی ہے۔ مگر اس قسم کے جنتی کلام کا کہ یہڈٹ کسی کو ٹھنڈے حالات میں نہیں مل سکتا۔ یہ تو اسی وقت مل سکتا ہے جبکہ اس کے خلاف شر انگیزی اور رفتہ پردازی کا طوفان کھڑا کیا جائے مگر وہ مشتعل نہ ہو۔ اس کے باوجود وہ انصاف اور

‹ Previous page Next page › Contents of September 1996 All issues

Printed page